رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مرکز فلسطین برائے مطالعہ اسیران نے اپنی رپورٹ میں دستاویزی ثبوت فراہم کیے ہیں کہ قابض اسرائیلی ریاست کے حکام نے فروری کے مہینے کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے خلاف گرفتاریوں کی وسیع مہم جاری رکھی۔
اس انسانی حقوق کے مرکز نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ فروری کے دوران گرفتاریوں کے 525 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں 21 خواتین اور 37 کم سن بچے شامل ہیں، جبکہ اس دوران غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والا ایک اسیر جام شہادت نوش کر گیا۔
رپورٹ میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ قابض دشمن نے دیہاتوں اور کیمپوں میں اجتماعی گرفتاریوں کی پالیسی جاری رکھی، جس کے دوران قبضے میں لیے گئے گھروں کو میدانی تحقیقاتی مراکز میں تبدیل کیا گیا اور زیر حراست افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اکثر افراد کو اس دھمکی کے ساتھ رہا کیا گیا کہ وہ قابض دشمن کی نظر میں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز سرگرمی میں حصہ نہ لیں۔
خواتین اور بچوں پر مظالم
رپورٹ کے مطابق قلقیليہ کے مشرق میں واقع عزون سے ایک 10 سالہ بچے اور طولکرم سے ایک 12 سالہ بچے کو گرفتار کیا گیا، جنہیں دس دن تک حراست میں رکھ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
قابض دشمن نے خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بنانے کے عمل میں بھی تیزی پیدا کی، جہاں گرفتاریوں کے 21 واقعات درج ہوئے جن میں کم سن لڑکیاں اور دو صحافی خواتین بھی شامل ہیں۔ ان نئی گرفتاریوں کے بعد اسیرات کی مجموعی تعداد 70 تک پہنچ گئی ہے۔
گرفتار ہونے والی خواتین میں طالبات شیماء جبور اور جنى احسان ابو وردہ، سابقہ اسیرہ صحافی بشریٰ الطویل اور 17 سالہ کم سن لڑکی ندیٰ ایاد عودہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ نابلس، مقبوضہ بیت المقدس، طولکرم، رام اللہ اور بیت فوریک سے بھی متعدد خواتین کو اغوا کیا گیا۔
اسیران کی شہادت
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فروری کے دوران تحریک اسیران کے شہداء کی مجموعی تعداد بڑھ کر 325 ہو گئی ہے۔ ان شہداء میں غزہ سے تعلق رکھنے والے 59 سالہ اسیر حاتم اسماعیل ریان بھی شامل ہیں، جنہیں دسمبر سنہ 2024 میں کمال عدوان ہسپتال میں اپنی انسانی خدمات سرانجام دیتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں دوران حراست شدید تشدد اور طبی غفلت کا نشانہ بنایا گیا جو ان کی شہادت کا سبب بنا۔
انتظامی حراست
قابض اسرائیلی ریاست نے بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست کے احکامات جاری کرنے کا سلسلہ بھی برقرار رکھا، جہاں بدنام زمانہ خفیہ ادارے شاباک کی سفارش پر 709 نئے احکامات جاری کیے گئے یا پرانے احکامات میں توسیع کی گئی۔
انتظامی حراست کی ان فہرستوں میں اسیرہ اسیل ملیطات اور ہناء حماد کی مدت میں توسیع کی گئی، جبکہ طوباس سے تعلق رکھنے والی سجی دراغمہ کو بھی انتظامی حراست میں منتقل کر دیا گیا۔
غزہ کے اسیران کی صورتحال
قابض دشمن نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 57 اسیران کو رہا کیا جو طویل عرصے تک بدترین تشدد کا شکار رہنے کے بعد ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اب بھی غزہ کے تقریباً 2000 شہری لاپتہ افراد کی صورت میں قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید ہیں جن کے حوالے سے جبری گمشدگی کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔
قابض اسرائیلی عقوبت خانوں کے اندر اسیران کی صحت اور زندگی کی صورتحال واضح طور پر ابتر ہو چکی ہے، خاص طور پر رمضان المبارک کے مہینے میں خوراک، لباس اور صفائی کے سامان کی شدید قلت ہے۔ اسیران کو جلدی امراض کا سامنا ہے اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی سمیت انہیں طویل عرصے تک آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر بند رکھنے جیسی سفاکیت کا سامنا ہے۔
