رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی جیل سروس کے کمشنر کوبی یعکوفی نے رملہ کے قریب واقع “نیتسان” نامی قابض اسرائیلی عقوبت خانے میں انتہا پسند آباد کاروں کے ایک گروہ کے لیے ایک انتہائی اشتعال انگیز دورے کا اہتمام کیا۔ اس جیل کو اپنے سخت ترین حفاظتی اقدامات اور اسیروں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اس دورے میں مجرمانہ اور سکیورٹی وارڈز کا معائنہ شامل تھا، جہاں آباد کاروں کو تورات کا درس دیا گیا اور آخر میں جیل کے اندر ہی ان کی پرتعیش دوپہر کے کھانے سے تواضع کی گئی۔
گذشتہ اتوار کو ہونے والے اس دورے میں بیس انتہا پسند آباد کاروں نے شرکت کی، جو مقبوضہ بیت المقدس کے محلے “ہار حوما” کی اسی عبادت گاہ میں جاتے ہیں جہاں کوبی یعکوفی خود جاتا ہے۔ اس دورے کا اصل مقصد اس وارڈ کا معائنہ کرنا تھا جہاں حماس کے عسکری ونگ کے “النخبة” نامی یونٹ کے مجاہدین کو قید کر کے ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔
عام طور پر قابض اسرائیلی جیل سروس کی تنصیبات میں داخلے کے قوانین انتہائی سخت ہوتے ہیں اور کسی بھی عام اسرائیلی کو صرف سیر و تفریح یا معلومات کے حصول کے لیے وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، بلکہ صرف مخصوص افراد ہی متعلقہ حکام کی اجازت سے داخل ہو سکتے ہیں۔
اس اشتعال انگیز دورے کا آغاز جیل کے اندر مجرمانہ وارڈز کے معائنے سے ہوا، جس کے بعد اس گروہ کو اس سخت ترین سکیورٹی والے وارڈ میں لے جایا گیا جہاں سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والے معرکہ “طوفان الاقصیٰ” کے بعد گرفتار کیے گئے “النخبة” کے ارکان کو قید کیا گیا ہے۔
دورے کے دوران فلسطینی اسیروں کو تذلیل کے لیے آباد کاروں کے سامنے فرش پر لٹایا گیا تھا اور ان کے ہاتھ پیر بیڑیوں اور ہتھکڑیوں سے جکڑے ہوئے تھے۔ جیل کے عملے نے آباد کاروں کے اس گروہ کو بڑے فخر سے ان مظالم کی تفصیلات بتائیں کہ کس طرح وارڈ کے اندر آپریشنل سرگرمیوں کے دوران ان نہتے اسیروں کو باندھ کر رکھا جاتا ہے۔
فلسطینی اسیروں کو بیڑیوں میں جکڑے اور زمین پر پڑے تڑپتا دیکھ کر آباد کاروں نے جیل کے اہلکاروں سے سوالات کیے اور اپنی انتقامی پیاس بجھائی، جس کے بعد اس گروہ نے جیل کے اندر خصوصی طور پر تیار کردہ دوپہر کا کھانا کھا کر اپنے اس وحشیانہ دورے کا اختتام کیا۔
