مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا پناہ گزین کیمپ کے داخلی راستے پرقابض اسرائیلی افواج نے شدید فوجی یلغار کی جس کے نتیجے میں تین فلسطینی نوجوان زخمی ہو گئے۔ اس کارروائی کے دوران علاقے میں قابض فوج کی بھاری نفری تعینات رہی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج نے کئی فوجی گاڑیوں کے ساتھ کیمپ کے داخلی راستے پر واقع شارع القدس پر دھاوا بولا اور نہتے شہریوں پر صوتی بموں اور زہریلی آنسو گیس کے گولوں کی برسات کر دی۔
فلسطینی ہلالِ احمر کے عملے نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے قابض فوج کے تشدد کا شکار ہونے والے دو زخمی نوجوانوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال منتقل کیا ہے، جبکہ تیسرا نوجوان قابض فوج کی جانب سے داغی گئی دم گھونٹ دینے والی آنسو گیس کے باعث بے ہوش ہو گیا۔
کیمپ پر اس وحشیانہ حملے کے دوران فلسطینی نوجوانوں اور غاصب اسرائیلی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ قابض فوج کی جانب سے قلندیا کیمپ کے دہانے پر اس قدر اندھا دھند آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی کہ ایک عمارت کی چھت پر آگ بھڑک اٹھی۔
قابض فوج کا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب کفر عقب، رام اللہ اور البیرہ کو جانے والی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت عروج پر تھی۔
واضح رہے کہ قلندیا پناہ گزین کیمپ کو قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ایسی مہم جوئی کا سامنا رہتا ہے، جس کے دوران شدید فائرنگ اور آنسو گیس کے استعمال سے نہ صرف مقامی آبادی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ گرد و نواح کے علاقوں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔
قابض اسرائیلی افواج نے رمضان المبارک کی آمد کے پیشِ نظر مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور رابطہ لائنوں پر موجود نام نہاد حساس مراکز میں الرٹ لیول بڑھا دیا ہے، کیونکہ قابض دشمن کو خدشہ ہے کہ یہ بابرکت مہینہ ان کے لیے انتہائی تناؤ کا باعث ثابت ہوگا۔
