مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب مشرق میں واقع گاؤں ام طوبا سے تعلق رکھنے والے مقدسی شہری عطیہ ابو طیر کو مجبور کر دیا کہ وہ بغیر کسی لائسنس کے تعمیر کے بہانے اپنے گھر کا ایک حصہ خود مسمار کر دے۔ یہ کارروائی شہر میں فلسطینی وجود کو نشانہ بنانے والی اس مسلسل پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ القدس گورنری نے اطلاع دی ہے کہ ابو طیر کو اپنے گھر کا تقریباً 30 مربع میٹر پر محیط حصہ خود مسمار کرنے کی اس اذیت ناک کارروائی پر مجبور کیا گیا تاکہ قابض اسرائیل کی مشینری کے ذریعے مسماری کی صورت میں عائد کیے جانے والے بھاری مالی جرمانوں سے بچا جا سکے۔
گورنری نے واضح کیا کہ یہ مکان سنہ 2014ء سے قائم ہے اور پانچ افراد پر مشتمل خاندان کا واحد ٹھکانہ ہے، جبکہ مسماری کا یہ ظالمانہ فیصلہ القدس کے شہریوں کے پہلے سے مشکل حالاتِ زندگی میں اس خاندان کی تکالیف کو مزید سنگین بنا دے گا۔ قابض اسرائیلی حکام فلسطینی محلوں بالخصوص مشرقی بیت المقدس کے علاقوں میں بغیر لائسنس تعمیرات کا بہانہ بنا کر گھروں کی مسماری کی سفاکیت جاری رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ فلسطینیوں کے لیے تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنے پر انتہائی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
بیت المقدس کے باسیوں کو قابض بلدیہ کی جانب سے نافذ کردہ پیچیدہ طریقہ کار اور کمر توڑ اخراجات کے نتیجے میں تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے فلسطینی اپنی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے لیے بغیر اجازت تعمیر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں قابض اسرائیلی حکام متعدد شہریوں کو اس دھمکی کے ذریعے اپنا گھر خود مسمار کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اگر اسرائیلی بلڈوزروں نے مسماری کی تو انہیں بھاری جرمانے اور مسماری کے اخراجات بھی ادا کرنے ہوں گے۔
القدس گورنری کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ماہ فروری کے دوران قابض حکام نے شہر میں 49 مسماریوں اور کھدائی کی کارروائیوں کو انجام دیا، جن میں سے 15 کارروائیاں جبری طور پر خود مسمار کرنے کی تھیں اور 27 مسماریاں قابض اسرائیل کی مشینری کے ذریعے کی گئیں، جبکہ اس کے علاوہ اراضی کی کھدائی کی سات کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح قابض اسرائیلی حکام نے 143 نوٹس جاری کیے جن میں 125 مسماری کے فیصلے، 16 بے دخلی کے احکامات اور 2 قبضے کے فیصلے شامل تھے، جن کا مرکز عناتا، سلوان، العیزریہ اور ابو دیس کے علاقے رہے۔ یہ اقدامات اس وسیع تر صہیونی پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد القدس میں فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا اور ان کے گھروں کو نشانہ بنا کر ان کی آبادیاتی موجودگی کو کم کرنا ہے تاکہ شہر پر جبری طور پر اپنا نقشہ مسلط کیا جا سکے۔
