غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے مشرقی علاقوں میں آج بدھ کے روز قابض اسرائیلی افواج کی وحشیانہ فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں 5 معصوم بچوں سمیت 18 شہری جامِ شہادت نوش کر گئے۔ غاصب صہیونی دشمن کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ آج 116 ویں روز بھی پوری سفاکیت کے ساتھ جاری رہا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیل کے ٹینکوں نے غزہ شہر کے مشرقی محلے التفاح میں شدید گولہ باری کی اور حبوش خاندان کی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو بچوں سمیت خاندان کے 4 افراد شہید ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق شہداء میں 13 سالہ ریتال محمود حبوش، 40 سالہ یوسف محمد حبوش، 22 سالہ احمد طلعت حبوش اور 16 سالہ بلال اشرف حبوش شامل ہیں۔ اسی محلے میں گذشتہ روز سے جاری مسلسل اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مزید 7 فلسطینی بھی شہید ہوئے ہیں۔
غزہ شہر کے ہی مشرقی علاقے الزیتون میں قابض اسرائیل کی بمباری سے ایک خاتون اور دودھ پیتے بچے سمیت تین شہری شہید ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان شہداء میں 60 سالہ علی احمد سلمی، 55 سالہ بسینہ محمد عیاد اور محض 5 ماہ کا شیر خوار بچہ صقر بدر الحتو شامل ہیں۔
ادھر جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے علاقے قیزان ابو رشوان میں قابض اسرائیل کی توپ خانے نے شہریوں کے خیموں اور گھروں کو نشانہ بنایا جس سے ایک بچے سمیت تین فلسطینی شہید ہو گئے۔ شہداء کی شناخت 21 سالہ محمود ایمن الراس، 28 سالہ سلیمان ابو ستہ اور ان کے 12 سالہ بیٹے فرید کے نام سے ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں خان یونس میں ہی ابو حداید خاندان کا ایک بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا جو گذشتہ دنوں قابض دشمن کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا۔
خان یونس کے مشرقی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں قابض دشمن کی عسکری گاڑیوں نے بھاری مشین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی جبکہ اسرائیلی بحریہ کی جنگی کشتیوں نے بھی ساحلی علاقوں پر گولے برسائے۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آج بدھ کو شمالی غزہ میں “یلو لائن” کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ سے ان کا ایک افسر شدید زخمی ہو گیا۔ اسی حوالے سے عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے اسرائیلی فوج کی جنوبی کمان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ غزہ میں عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سیز فائر معاہدے کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیلی افواج کی بار بار کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 553 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 179 بچے اور 69 خواتین شامل ہیں جبکہ 1463 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سنہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری نسل کشی کی اس ہولناک جنگ میں اب تک قابض افواج 71,803 سے زائد شہریوں کو شہید اور 1,71,570 سے زائد کو زخمی کر چکی ہیں۔ اس سفاکیت کے نتیجے میں غزہ کا 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے جس کی تعمیرِ نو کے لیے اقوام متحدہ نے تقریباً 70 ارب ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ لگایا ہے۔
