مقبوضہ بیت المقدس / مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے آج بدھ کے روز علی الصبح مقبوضہ مغربی کنارہ اور مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں اور یلغار کی، جس کے دوران درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا گیا جن میں رہا ہونے والے سابق اسیر بھی شامل ہیں۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے درجنوں گھروں پر چھاپے مارے، گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی اور مکینوں کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا۔ اس دوران فلسطینیوں پر تشدد اور سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی افراد کو فیلڈ انٹرویو (میدانی تحقیقات) کے نام پر ہراساں کیا گیا۔
مقبوضہ بیت المقدس گورنری میں قابض فوج نے شہر کے شمال مشرقی قصبہ عناتا سے ایک فلسطینی خاتون مہا عبد الرحمن الرفاعی کو فیس بک پر مبینہ طور پر اشتعال انگیز مواد شائع کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
بیت لحم میں شہر کے وسطی علاقے حارہ الفواغرہ پر حملے کے دوران نوجوان احمد الصومان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ گورنری کے جنوب مشرق میں واقع قصبہ تقوع میں احمد اسامہ صباح کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لے لیا گیا۔
نابلس میں قابض فوج نے مختلف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران متعدد نوجوانوں کو گرفتار کیا، جن میں الضاحیہ العلیا سے مہند فارس حمد، بلاطہ پناہ گزین کیمپ پر حملے کے دوران ابراہیم ریاض، احمد موسیٰ مسیمی اور وفا ابو زیتون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شارع القدس اور قصبہ سبسطیہ میں چھاپوں کے دوران فادی ولویل اور یاسر ماہر شرید کو بھی گرفتار کیا گیا۔
الخلیل میں قصبہ اذنا پر حملے کے دوران نوجوان باسل ماجد طمیزہ کو گرفتار کیا گیا، جبکہ تل کے علاقے سے مزید دو نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔ طولکرم کے محلہ الاقصیٰ سے اسامہ عبد ربہ نامی نوجوان کو گرفتار کیا گیا۔
اسی سیاق میں مرکز اطلاعات فلسطین معطی نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مغربی کنارہ اور مقبوضہ بیت المقدس میں مزاحمتی کارروائیوں میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مزاحمت کے 14 واقعات دستاویزی شکل میں درج کیے گئے جن میں قابض فوج کے ساتھ جھڑپیں، سنگ باری، آباد کاروں کے حملوں کا مقابلہ اور قابض افواج کے خلاف پٹاخوں کا استعمال شامل ہے۔
مغربی کنارہ کے مختلف علاقے قابض فوج کی جانب سے بار بار کی یلغار کا نشانہ بن رہے ہیں، جہاں گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنا، فلسطینیوں کی مسلسل گرفتاریاں اور مکینوں کو فیلڈ انٹرویو کے ذریعے ہراساں کرنا قابض ریاست کی سفاکیت کا روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔
