غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں مسلسل 120 ویں روز بھی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اتوار کے روز 5 فلسطینی شہری شہید ہو گئے۔ قابض دشمن نے پورے غزہ میں فضائی و زمینی گولہ باری اور فائرنگ کے ذریعے فلسطینیوں کی نسل کشی کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔
مقامی نامہ نگاروں کے مطابق نوجوان معتصم عیسیٰ سمور چند روز قبل خان یونس کے علاقے مواصی پر ہونے والی بمباری میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اسی طرح شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا میں 33 سالہ سالم روحی الصوص قابض فوج کی فائرنگ سے شہید ہو گئے۔
رفح کے وسطی علاقے سے تعلق رکھنے والی خاتون دالیا خالد حافظ عصفور (قشطہ) بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ وہ سنہ 2023ء میں جنگ کے آغاز پر اپنے گھر پر ہونے والے حملے میں زخمی ہوئی تھیں، جہاں ان کے چار معصوم بچے پہلے ہی شہید ہو چکے تھے، اب وہ بھی اپنے بچوں سے جا ملیں۔ دیر البلح کے مشرق میں ابو العجین کے مقام پر قابض دشمن کی گاڑیوں سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں 20 سالہ نوجوان نسیم ابو العجین شہید ہو گیا۔ علاوہ ازیں بیت لاہیا پر اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری سے ایک اور فلسطینی شہید اور ایک زخمی ہوا۔
قابض اسرائیلی فوج کے توپ خانے نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع محلہ التفاح پر شدید گولہ باری کی، جبکہ جنوبی قطاع کے شہر خان یونس کے مشرقی محلوں پر بھی مشین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ وسطی غزہ میں واقع بریدج کیمپ کے مشرقی حصوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ حمد ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ شمالی غزہ میں قابض فوج کے چھوڑے ہوئے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے ایک بچہ درمیانی درجے کے زخموں سے چور ہو گیا۔
اسرائیلی میڈیا پر نشر ہونے والے مناظر میں قابض فوج کو خان یونس شہر میں پانی کے ایک بڑے ٹینک کو دھماکے سے اڑاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو فلسطینیوں کو بنیادی ضرورتوں سے محروم کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔
سیز فائر کے اس کمزور معاہدے کے دوران اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 576 ہو گئی ہے جبکہ 1543 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 11 اکتوبر سنہ 2025ء سے معاہدے کے آغاز کے بعد اب تک 717 شہداء کی میتیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔ اس طرح 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی نسل کشی کی اس جنگ میں مجموعی طور پر شہداء کی تعداد 72,027 اور زخمیوں کی تعداد 171,651 تک پہنچ گئی ہے۔
طبی میدان میں صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کا نظامِ صحت مکمل طور پر تباہ ہونے والا ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات کا ذخیرہ صفر ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کے لیے معمولی درد کش دوائیں بھی ایک عیاشی بن گئی ہیں۔ 46 فیصد بنیادی ادویات، 66 فیصد طبی سامان اور 84 فیصد لیبارٹری اشیاء مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔
سیاسی محاذ پر امریکی ویب سائٹ “ایکسیس” نے انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس 19 فروری کو “امن کونسل” کے سربراہان کا پہلا اجلاس بلانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ اجلاس قابض حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دورہ واشنطن اور 22 سے 24 فروری کو ہونے والی “ایپک” کانفرنس کے موقع پر متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اجلاس کا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو کے نام پر فنڈز جمع کرنا ہے، جو درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی پلان کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔
