مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں منگل کے روز ایک عام ہڑتال نے زیادہ تر عرب مقامی اتھارٹیز کے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا، جبکہ عرابہ البطوف شہر میں مکمل شٹ ڈاؤن دیکھا گیا۔ یہ احتجاج ان فلسطینی بستیوں میں تشدد اور منظم جرائم کی خطرناک لہر کے خلاف کیا جا رہا ہے جنہیں قابض اسرائیل کی پولیس کی غفلت اور مجرمانہ ملی بھگت کا سامنا ہے۔
یہ ہڑتال عرب عوام کی اعلیٰ فالو اپ کمیٹی کے اس ہنگامی اجلاس کے بعد کی گئی جو گذشتہ روز پیر کو عرابہ کی میونسپلٹی بلڈنگ میں منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس کا پس منظر فائرنگ کا وہ لرزہ خیز واقعہ تھا جس میں عرابہ کے میئر احمد نصار اور شہر کی عوامی کمیٹی کے سربراہ انور یاسین زخمی ہو گئے تھے۔
اجلاس میں عرب مقامی اتھارٹیز کے سربراہان کی قومی کمیٹی کے نمائندوں کے علاوہ سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کے قائدین، عرابہ میونسپلٹی اور عوامی کمیٹی کے ارکان اور مختلف سماجی تنظیموں کے کارکنان نے شرکت کی۔
شرکاء نے مقبوضہ علاقوں کے اندر فلسطینی معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور جرائم کا مقابلہ کرنے کے طریقوں پر غور کیا، بالخصوص عرابہ میں مقامی قیادت کو نشانہ بنانے کے جرم کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام عرب مقامی اتھارٹیز میں عام ہڑتال اور شہر میں مکمل پہیہ جام ہڑتال کی جائے۔
اعلیٰ فالو اپ کمیٹی نے اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں گی، جن میں آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر مارچ اور مظاہروں کا انعقاد بھی شامل ہے۔
مقبوضہ فلسطین کے ان علاقوں میں حالیہ عرصے کے دوران جرائم کے پھیلاؤ کے خلاف مسلسل احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ قابض اسرائیل کی انتظامیہ اور پولیس دانستہ طور پر منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں متعدد بستیوں اور چوراہوں پر احتجاجی دھرنے بھی دیے جا رہے ہیں۔
یہ احتجاجی لہر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب سنہ 2025ء کے دوران مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی معاشرے کے اندر قتل و غارت گری کے واقعات نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ گذشتہ سال جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 252 تک پہنچ گئی، جس نے قابض اسرائیل کی پولیس کی کارکردگی اور فلسطینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اس کی دانستہ ناکامی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
