رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی میڈیا اسیران کے دفتر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیلی عقوبت خانے الدامون میں قید خواتین اسیران کو انتہائی کٹھن اور انسانیت سوز حالات کا سامنا ہے جو ان کی عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ خواتین کی رازداری اور پردے کے حق کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے بالخصوص رات کے اوقات میں مرد اہلکاروں کا خواتین کے وارڈز میں گشت ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔
دفتر نے اشارہ کیا کہ مستقل خوف اور بے چینی کی اس کیفیت نے خواتین اسیران کو اضافی حفاظتی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے جس کے تحت وہ کسی بھی وقت ممکنہ چھاپوں کے پیش نظر مکمل شرعی لباس میں سونے پر مجبور ہیں۔ کمروں کے اندر پردے اور رازداری کا کوئی انتظام نہ ہونا اور حراست کے بدترین حالات ان کے عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
خواتین اسیران نے فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار اور مقدار کے حوالے سے بھی شدید شکایات درج کروائی ہیں جو کہ انتہائی ناقص ہے اور خاص طور پر بیمار اسیرات کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔
میڈیا اسیران نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے جیل انتظامیہ کو خواتین اسیران کی سلامتی اور زندگیوں کا مکمل ذمہ دار قرار دیا ہے۔
