Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

قابض اسرائیل کی فوج میں 50 ہزار سے زائد دوہری شہریت رکھنے والے فوجی شامل

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے پہلی بار ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے غیر ملکی شہریت رکھنے والے فوجیوں کی تعداد کے بارے میں تفصیلی سرکاری اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن کی تفصیلات اخبار یدیعوت احرونوت نے شائع کی ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 50 ہزار 632 فوجی اسرائیلی شہریت کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔

شائع شدہ ڈیٹا کے مطابق قابض فوج کی صفوں میں 12 ہزار 135 فوجی امریکی شہریت کے حامل ہیں، جو کہ دیگر تمام قومیتوں کے مقابلے میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس کے علاوہ 6 ہزار 100 سے زائد فرانسیسی اور 5 ہزار سے زائد روسی فوجی بھی شامل ہیں۔

اس فہرست میں جرمنی، یوکرین، برطانیہ، رومانیہ، پولینڈ، کینیڈا اور لاطینی امریکہ کے ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں فوجی بھی موجود ہیں۔

تنوع کا یہ سلسلہ صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں ہے بلکہ اس فہرست میں محدود تعداد میں ہی سہی لیکن یمن، تیونس، لبنان، شام اور الجزائر جیسی عرب قومیتیں بھی شامل ہیں۔

اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ 4 ہزار 440 فوجی ایسے ہیں جو اسرائیلی شہریت کے علاوہ دو غیر ملکی شہریتیں رکھتے ہیں، جبکہ 162 فوجی 3 یا اس سے زائد غیر ملکی شہریتوں کے حامل ہیں۔

سات اکتوبر سنہ 2023ء غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے ہی قابض اسرائیلی فوج نے ان ہزاروں دوہری اور کثیر القومیت فوجیوں کو عسکری کارروائیوں میں شامل کر رکھا ہے۔ اس صورتحال نے بیرونِ ملک “عالمی دائرہ اختیار” کے اصول کے تحت ممکنہ قانونی کارروائیوں کے وسیع دروازے کھول دیے ہیں، جو جنگی جرائم کے مرتکب افراد پر ان کی شہریت یا جائے وقوعہ سے قطع نظر مقدمہ چلانے کی اجازت دیتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی ممتاز بین الاقوامی تنظیموں نے اس حوالے سے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور مغربی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث اپنے شہریوں کے حوالے سے قانونی ذمہ داریاں پوری کریں۔

متعدد ممالک میں پہلے ہی شہری اور قانونی تحریکیں شروع ہو چکی ہیں، جن میں کینیڈا بھی شامل ہے جہاں کی فیڈرل پولیس نے جنگی جرائم کے شبہ میں تحقیقات شروع کی ہیں جن میں کچھ دوہری شہریت رکھنے والے ریزرو فوجی بھی شامل ہیں۔ اسی طرح بیلجیئم اور برطانیہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی فوجداری عدالت اور پولیس کے پاس سینکڑوں فوجیوں کے خلاف شکایات درج کرائی ہیں، جن میں یورپی شہریت رکھنے والے فوجی بھی شامل ہیں۔

غزہ کی پٹی میں دو سال سے جاری نسل کشی کی اس وحشیانہ جنگ نے اب تک 72 ہزار سے زائد شہداء اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمیوں کی صورت میں المناک انسانی بحران پیدا کیا ہے، جبکہ 90 فیصد بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan