Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

قابض اسرائیل کی حمایت بند کرنے کا مطالبہ، امریکی سینیٹر

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی ریپبلکن پارٹی کے نمایاں سینیٹر لینڈسے گراہم نے قابض اسرائیلی حکومت کو دی جانے والی امریکہ کی سالانہ فوجی امداد کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ قابض اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے ان بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں انہوں نے اس امداد کے مستقبل پر گفتگو کی تھی اور جس پر امریکی سیاسی حلقوں میں سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنی ایک پوسٹ میں لینڈسے گراہم جنہیں قابض اسرائیل کے قریب سمجھا جاتا ہے نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے قابض اسرائیل کو دی جانے والی امداد ایک شاندار سرمایہ کاری رہی ہے جس کے ذریعے ٹیکنالوجی کے تبادلے نے قابض اسرائیل کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کیا اور اسے زیادہ طاقتور اور جدید بنایا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنجمن نیتن یاھو کے حالیہ بیانات امریکہ کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ قابض اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کرنے کے طے شدہ شیڈول پر ازسرنو غور کرے۔

عربی ویب سائٹ عربی21 کی ایک رپورٹ کے مطابق لینڈسے گراہم نے ہر سال تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی فوجی امداد جاری رکھنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل کی مضبوط معیشت اور اس کی عسکری خود کفالت کی صلاحیت اس امداد کو غیر ضروری بنا چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ رقم امریکہ کی اپنی فوج کو عالمی سطح پر درپیش نئے چیلنجز کے مقابل مضبوط بنانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خود قابض اسرائیل کی جانب سے امدادی نظام کی نوعیت بدلنے کی واضح خواہش موجود ہے اور طے شدہ مدت سے پہلے امداد میں کمی امریکی قومی سلامتی کے مفاد میں ہو سکتی ہے۔ اس سے واشنگٹن کو اپنے وسائل کو اپنی ترجیحات کے مطابق ازسرنو ترتیب دینے میں مدد ملے گی۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب قابض اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی نے بھی ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فوجی امداد محض مالی عطیہ نہیں بلکہ اس میں انٹیلی جنس ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبوں میں باہمی تبادلہ بھی شامل ہے اور دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔

یہ تمام پیش رفت بنجمن نیتن یاھو کے اس انٹرویو کے بعد ہوئی ہے جو انہوں نے دی اکانومسٹ جریدے کو دیا تھا جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ قابض اسرائیل آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد کو بتدریج کم کر کے مکمل طور پر ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کی بنیاد قابض اسرائیل کی عسکری اور معاشی طاقت کے بقول بلوغت کو قرار دیا۔

لینڈسے گراہم نے خبردار کیا کہ ان حالات میں فوجی امداد کا تسلسل امریکہ کے مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے اندر عملی تجاویز پیش کریں گے تاکہ قابض اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد کے خاتمے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان قابض اسرائیل کے ساتھ روایتی امریکی حمایتی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan