Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

قابض اسرائیل کی جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیاں، دو کمسن شہید

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل نے پیر کے روز بھی غزہ پٹی میں سیز فائر معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھیں، جہاں مسلسل سویں روز فضائی اور توپ خانے کی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں دو فلسطینی بچے شہید ہو گئے۔ ان جارحانہ کارروائیوں نے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا جس سے شہری آبادی میں شدید خوف اور بے چینی پھیل گئی۔

ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ رفح کے علاقے العلم میں قابض اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے 15 سالہ فلسطینی بچہ شہید ہو گیا۔

آج صبح طبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ خان یونس کے مشرق میں واقع التحلیہ کے قریب قابض اسرائیلی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بننے والا 17 سالہ نوجوان حسین ابو سبلہ بھی شہید ہو گیا۔

اسی دوران قابض اسرائیلی طیاروں نے خان یونس کے مشرق میں واقع بنی سہیلہ شہر میں شارع صلاح الدین پر واقع محلہ الرقب الغربی پر انخلاء کے پمفلٹس گرائے، جس سے شہریوں میں مزید خوف و ہراس پھیل گیا۔

ادھر مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ پٹی میں خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے مسمار کیا، جبکہ اسی علاقے میں موجود فوجی گاڑیوں کی جانب سے شدید فائرنگ بھی کی گئی۔

اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیلی جنگی طیاروں نے خان یونس کے مشرقی علاقوں پر دو فضائی حملے کیے، جو 10 اکتوبر گذشتہ سے سیز فائر معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر جاری حملوں کے سلسلے میں ایک نیا خطرناک اضافہ ہے۔

غزہ پٹی کے وسطی علاقے میں ایک قابض اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے البریج پناہ گزین کیمپ کے شمال مشرقی علاقوں پر فائرنگ کی، جس کے باعث وہاں رہنے والے خاندانوں میں شدید خوف پھیل گیا۔

یہ تمام پیش رفت سیز فائر معاہدے کی مسلسل پامالی کے تناظر میں سامنے آ رہی ہے، جہاں انسانی حقوق کے ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ رہائشی علاقوں پر جاری فوجی حملے نہ صرف شہریوں کی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ غزہ پٹی میں جنگ بندی کے استحکام اور شہریوں کے تحفظ کی تمام کوششوں کو بھی سبوتاژ کر رہے ہیں۔

غزہ مرکز کی جانب سے خلاف ورزیوں کی دستاویز بندی

غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سیز فائر معاہدے کے نفاذ کے ابتدائی سو دنوں کے دوران قابض اسرائیل کی سنگین خلاف ورزیاں مسلسل جاری رہیں، جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی جانی پہچانی پالیسی مختلف طریقوں اور نسبتاً کم شدت والے ہتھکنڈوں کے ساتھ بدستور جاری ہے۔

مرکز نے پیر کے روز جاری بیان میں واضح کیا کہ روزانہ کی زمینی نگرانی کی بنیاد پر یہ معاہدہ شہریوں کے تحفظ کا ذریعہ بننے کے بجائے ایک رسمی ڈھانچہ ثابت ہوا، جس کی آڑ میں فلسطینی شہریوں کے قتل، براہ راست نشانہ بنانے، بھوک مسلط کرنے اور زندگی کے بنیادی وسائل سے محروم رکھنے کے جرائم جاری رکھے گئے۔

بیان کے مطابق سیز فائر کے 99 دنوں کے دوران قابض اسرائیل نے 479 فلسطینیوں کو شہید کیا جبکہ 1280 افراد کو زخمی کیا، جو اوسطاً روزانہ تقریباً 5 شہداء اور 13 زخمیوں کے برابر ہے۔

مرکز نے نشاندہی کی کہ شہداء میں 91.9 فیصد عام شہری تھے جبکہ بچوں، خواتین اور بزرگوں کا تناسب مجموعی متاثرین میں 51.6 فیصد رہا۔

اسی طرح زخمی ہونے والوں میں عام شہریوں کی شرح 99.2 فیصد رہی، اور یہ تمام افراد انہی علاقوں میں نشانہ بنے جو سیز فائر معاہدے کے تحت محفوظ سمجھے جاتے تھے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan