غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے خان یونس میں تین شہری شہید ہو گئے، جبکہ غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے رمضان المبارک کے پہلے ہی دن قطاع کے مختلف علاقوں پر فضائی، برری اور بحری حملوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
ناصر میڈیکل کمپلیکس نے خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں میں قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک شہری کی شہادت کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل مجمع نے جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس شہر کے مشرق میں واقع قصبہ بنی سہيلا میں فوجی تعیناتی کے علاقوں کے قریب قابض فوج کی گولیوں سے دو فلسطینیوں کی شہادت کی اطلاع دی تھی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ 20 سالہ نوجوان مہند جمال محمد النجار خان یونس کے مشرق میں بنی سہيلا چوک کے قریب قابض دشمن کی فائرنگ سے شہید ہوا۔
قابض اسرائیلی آرٹلری نے غزہ شہر کے مشرقی محلوں کو نشانہ بنایا، جبکہ شمالی غزہ کے قصبہ بیت حانون میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
غزہ کے جنوب میں خان یونس اور رفح کے شہروں پر قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے نچلی پروازوں کے دوران کئی فضائی حملے کیے، جبکہ توپ خانے نے خان یونس کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی۔ صحافتی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیل کے ٹینکوں نے شہر کے مشرقی علاقوں کی طرف بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی۔
غزہ کی پٹی میں رمضان المبارک کا پہلا دن ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب سیز فائر معاہدے کے نفاذ کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جبکہ ہزاروں خاندان خوراک اور بنیادی ضرورتوں کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے گذشتہ مہینوں کے دوران کے بعض علاقوں میں قحط پھیلنے کا اعلان کیا تھا۔
سیز فائر معاہدے کے آغاز سے اب تک قابض افواج نے اپنی متواتر خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 634 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے جن میں 195 بچے اور 84 خواتین شامل ہیں، جبکہ 1630 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
7 اکتوبر سنہ 2023 سے شروع ہونے والی اس نسل کشی کی جنگ میں قابض افواج اب تک 72 ہزار سے زائد شہریوں کو شہید اور تقریبا 1 لاکھ 72 ہزار کو زخمی کر چکی ہیں، جبکہ 8 ہزار سے زائد لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کا 90 فیصد حصہ مکمل تباہ ہو چکا ہے، جس کی تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ اقوام متحدہ نے 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔
