Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

قابض اسرائیل کی بیت المقدس میں جارحیت میں اضافہ

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین کی وزارت اوقاف امور دینیہ نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ ماہ جنوری کے دوران مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیل اور اس کے آبادکاروں کی جانب سے منظم اور خطرناک نوعیت کی جارحیت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کا نشانہ مذہبی مقامات تعلیمی و ثقافتی ادارے طبی مراکز اور ذرائع ابلاغ بنے۔

وزارت اوقاف نے کہا کہ قابض اسرائیل کی یہ جارحانہ کارروائیاں ایک ہمہ گیر پالیسی کا حصہ ہیں جن کا مقصد شہر کو اس کے قومی اداروں سے خالی کرنا، بیت المقدس کے معاشرے کے عزم و استقامت کی بنیادوں کو کمزور کرنا اور ایسے جابرانہ حقائق مسلط کرنا ہے جو یہودیانے کےمنصوبوں اور جبری اسرائیلی رنگ میں رنگنے کے ایجنڈے کو تقویت دیتے ہیں۔

وزارت اوقاف نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں جو عبادت گاہوں کے خلاف قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں کا خلاصہ پیش کرتی ہے بتایا کہ گذشتہ جنوری کے دوران آبادکاروں اور قابض اسرائیل کی فوج نے مسجد اقصی پر 28 مرتبہ دھاوا بولا جبکہ اسی مہینے میں مسجد ابراہیمی میں 57 مرتبہ اذان دینے سے روکا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قابض اسرائیلی فوج اور آبادکاروں نے مسجد اقصی پر حملوں میں اضافہ کیا، چاہے وہ دھاووں کی تعداد ہو یا خطرناک یہودیانہ منصوبے جو براہ راست مسجد کو نشانہ بناتے ہیں۔

وزارت اوقاف نے واضح کیا کہ قابض اسرائیلی فوج نے نمازیوں کے خلاف اقدامات مزید سخت کر دیے اور انہیں خصوصاً فجر کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد اقصی میں داخل ہونے سے روکا۔ اس دوران نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، ان کی شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی اور مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر کے اطراف اور مسجد اقصی کے دروازوں پر سخت ناکہ بندی کی گئی۔

اسلامی اوقاف کے محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق پورے مہینے کے دوران 4397 آبادکار گروہوں کی صورت میں اور قابض اسرائیل کی پولیس کی نگرانی میں مسجد اقصی میں دراندازی کے مرتکب ہوئے۔

وزارت اوقاف نے نشاندہی کی کہ جمعہ کے خطبے اور نماز کے دوران مصلیٰ قبلی اور قبہ الصخرہ کے اطراف میں دھاوے بولے گئے جبکہ آبادکاروں نے ان دھاووں کے دوران نام نہاد رزمیہ سجدہ ادا کیا جو مقام کی حرمت کی صریح پامالی ہے۔

جنوبی مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی کے بارے میں وزارت نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج نے جنوری کے دوران 57 مرتبہ اذان دینے سے روکا اور تاحال اس کی جانب جانے والے بازار کے دروازے کو روزانہ بند رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ سنہ 2025ء کے آغاز سے مشرقی دروازہ بند ہے اور اس کی کھڑکیوں کو ترپالوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

وزارت اوقاف کی رپورٹ کے مطابق نمازیوں اور مسجد کے ملازمین کو تذلیل آمیز تلاشیوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں گالم گلوچ اور نازیبا زبان کا استعمال بھی شامل ہے۔

وزارت نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ مسجد ابراہیمی کے ساتھ زاویہ الاشراف کے اندر مسلسل کھدائیاں اور دیگر سرگرمیاں جاری ہیں جن کی نوعیت تاحال واضح نہیں، جبکہ کم از کم 550 قابض اسرائیلی فوجیوں نے مسجد میں گھس کر اس کے عملے کو نشانہ بنایا۔

وزارت اوقاف نے قابض اسرائیل کے ان اقدامات کو مسجد ابراہیمی شریف میں اوقاف کے اختیارات پر کھلا اور سنگین حملہ، اس کی حرمت کی شدید بے حرمتی، مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش اور اس پر قبضہ جمانے کی سازش قرار دیا۔

مسجد اقصی اور مسجد ابراہیمی کے علاوہ وزارت اوقاف نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی فورسز نے الخلیل شہر میں واقع مسجد جوہر اور مسجد الشہداء پر بھی دھاوے بولے۔

وزارت اوقاف نے اطلاع دی کہ گذشتہ جمعرات کو یہودی آبادکاروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں واقع چرچ آف گیتھسمنی پر دھاوا بولا جو انتہاپسند نظریات اور مذہبی نفرت سے جنم لینے والی حرکات کے تحت مقدس مقام کی کھلی بے حرمتی ہے۔

وزارت اوقاف نے زور دیا کہ یہ تمام حملے قابض اسرائیل کی سرکاری اتھارٹیز اور آبادکار تنظیموں کے باہمی اشتراک سے انجام دیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد شہر کے عوامی دائرے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا اور بیت المقدس میں فلسطینی اداروں کے کلیدی کردار کو ختم کرنا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خلاف ورزیاں قبرستانوں اور مقدس مقامات پر حملوں سے لے کر اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں کی بندش، ثقافتی اور فنی مراکز پر دھاوے، تعلیمی عمل میں رکاوٹیں، صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کو نشانہ بنانا اور نسلی امتیاز پر مبنی قوانین نافذ کرنے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ تمام اقدامات تعلیم اور روزگار کے بنیادی حقوق کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں اور اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ قابض اسرائیل زمینی دباؤ کی پالیسی سے آگے بڑھ کر فلسطینیوں کے ادارہ جاتی اور قانونی وجود پر منظم حملہ کر رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan