مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے ’عالمی یوم القدس‘ کے موقع پر قابض اسرائیل کی فاشسٹ حکومت کی جانب سے القدس اور مسجد اقصیٰ کے خلاف جاری جارحیت میں اضافے پر سخت خبردار کیا ہے اور صیہونی دشمن کے ناپاک عزائم کے مقابلے کے لیے امت مسلمہ کی کوششوں کو متحد کرنے کی اپیل کی ہے۔
حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس سال یوم القدس عالمی ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب قابض صیہونی دشمن نے مقبوضہ القدس میں اسلامی اور مسیحی مقدسات اور بالخصوص مسجد اقصیٰ کے خلاف اپنی جارحیت اور مذموم منصوبوں کو تیز کر دیا ہے۔
بیان میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ قابض اسرائیل کی فاشسٹ حکومت القدس میں یہودیت کی ترویج اور بستیوں کی تعمیر کے منصوبوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ تمام تر بین الاقوامی ضابطوں، انسانی حقوق کے چارٹرز اور سماوی ادیان کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے نمازیوں کے لیے مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور رمضان المبارک کے آخری عشرے میں معتکفین اور مرابطین کو وہاں پہنچنے سے روکا جا رہا ہے، جبکہ اس سب پر عالمی برادری کی خاموشی اور چشم پوشی انتہائی مشکوک اور افسوسناک ہے۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ یوم القدس عالمی کے موقع پر اس کشمکش کی نوعیت واضح ہو کر سامنے آ گئی ہے۔ خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کے ساتھ ساتھ فلسطین میں بھی جارحیت میں خطرناک حد تک اضافہ کیا گیا ہے، یہاں تک کہ سنہ 1967 کے بعد پہلی بار رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض متفرق واقعات نہیں بلکہ ایک ہی منظم منصوبے کی کڑیاں ہیں جس کا مقصد خطے کی اقوام کے ارادوں کو توڑنا اور امت میں مزاحمت کے عناصر کو ختم کرنا ہے، تاکہ ان من گھڑت افسانوں اور توسیع پسند صیہونی منصوبے کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کی راہ ہموار کی جا سکے جنہیں “گریٹر اسرائیل” کا نام دیا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام اور امت مسلمہ ہر سال رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس عالمی منا کر فلسطین، القدس اور مسجد اقصیٰ کی عظمت کا اعادہ کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں القدس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے اسرا کے تئیں ہماری ذمہ داریوں کی یاد دلاتا ہے کہ ہم ہر ممکن طریقے سے ان کا دفاع کریں اور صیہونی دشمن کے منصوبوں کا مقابلہ کریں۔
حماس نے مزید کہا کہ اس سال یوم القدس ایک ایسی صیہونی و امریکی جنگ کے سائے میں آیا ہے جس نے ہمارے خطے اور اقوام کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ یہ دن امت کی کوششوں کو یکجا کرنے اور القدس و مسجد اقصیٰ کے دفاع میں برسرپیکار مرابطین کی ثابت قدمی کو تقویت دینے کا بہترین موقع ہے۔ ان کا دفاع اور قابض اسرائیل کے جرائم و سفاکیت سے ان کی حفاظت کرنا عرب و اسلامی امت کے قائدین، حکومتوں، عوام اور اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
بیان کے آخر میں حماس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ القدس محض کوئی سیاسی مسئلہ یا مفادات کا کوئی کارڈ نہیں ہے بلکہ یہ امت کے حق کی سمت بتانے والا قطب نما ہے۔ فلسطین انصاف کا وہ معیار رہے گا جس پر تمام موقف پرکھے جائیں گے اور ارادوں کا امتحان ہوگا، یہاں تک کہ ہمارے عوام کی آزادی اور واپسی کی امنگیں پوری ہو جائیں۔
