غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘نے خبردار کیا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں قابض اسرائیلی عقوبت خانوں بالخصوص نقب جیل میں بڑھتے ہوئے تشدد، طبی غفلت اور اسیران کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں مثلاً کھانے اور پینے سے محروم کرنا دراصل اس دہشت گرد صیہونی حکومت کی باضابطہ جارحانہ پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد اسیران کے عزم کو توڑنا اور ان کی استقامت کو نقصان پہنچانا ہے۔
تحریک کے رہنما محمود مرداوی نے ایک پریس بیان میں اس بات پر زور دیا کہ اس خطرناک صورتحال اور اسیران بالخصوص بیمار اور معمر قیدیوں کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کی تمام تر ذمہ داری غاصب اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے جیلوں کے اندر حالات کے کسی بھی وقت دھماکہ خیز ہونے کے حوالے سے بھی سخت انتباہ جاری کیا۔
مرداوی نے مزید کہا کہ اسیران کو ان جابرانہ پالیسیوں کے ذریعے نشانہ بنانے سے انہیں جھکایا نہیں جا سکے گا بلکہ اس سے ان کی ثابت قدمی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسیران ہمیشہ قوم کی غیرت کا عنوان اور جیلر کے سامنے مزاحمت کی زندہ علامت بن کر رہیں گے۔
انہوں نے مغربی کنارہ، مقبوضہ بیت المقدس، مقبوضہ اندرونی علاقوں کے عوام اور امتِ مسلمہ کے تمام غیور افراد سے اپیل کی کہ وہ اسیران کی نصرت کے لیے عوامی سرگرمیوں میں تیزی لائیں اور ان کی حمایت میں ہر محاذ کو گرم کر دیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کٹھن حالات میں اسیران اور ان کے اہل خانہ کو کبھی تنہا نہ چھوڑا جائے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں اس وقت 9300 سے زائد فلسطینی قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں جن میں 350 بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اسیران بدترین تشدد، فاقہ کشی اور طبی غفلت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے اب تک درجنوں اسیران جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
غاصب اسرائیل نے اکتوبر سنہ 2023ء سے امریکہ کی پشت پناہی میں غزہ کی پٹی پر شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ کے ساتھ ہی فلسطینی اسیران پر مظالم کا سلسلہ تیز کر دیا تھا۔ دو سال سے جاری اس سفاکیت کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔
