Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

قابض اسرائیل کا سزائے موت کا قانون نسل پرستی کی جانب ایک قدم: سپین

میڈرڈ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے قابض اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی قضیے کے حوالے سے ایک انتہائی خطرناک اشتعال انگیز قدم قرار دیا ہے۔

سانچیز نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری کردہ ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ سپین کی حکومت فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے نفاذ کو سختی سے مسترد کرتی ہے جسے حال ہی میں قابض اسرائیل کی کنیسٹ نے منظور کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ انصاف اور برابری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر رہا ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ قانون کھلم کھلا عدم مساوات پر مبنی ہے کیونکہ اس کا اطلاق ان اسرائیلیوں پر نہیں ہوتا جو ممکنہ طور پر انہی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں، جو ان کے بقول قانونی معیارات میں ایک واضح دہرے پن کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ہی جرم کے سامنے کھڑے ہیں لیکن اس کی دو الگ الگ سزائیں دی جا رہی ہیں جسے کسی صورت انصاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی نظر میں یہ قدم اپارتھائیڈ یعنی بدترین نسل پرستانہ نظام کو مزید جڑ پکڑنے کی جانب ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے۔

سپین کے وزیراعظم نے اپنے بیان کے اختتام پر عالمی برادری کے متحرک ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور اپیل کی کہ ایسے اقدامات پر خاموشی اختیار نہ کی جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan