(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جمعے کے روز فلسطین بھر کی مساجد اور دنیا بھر کے متعدد اسلامی مراکز میں غزہ کے شہداء اور مزاحمت کے قائدین کی ارواح کے ایصالِ ثواب کے لیے نمازِ غائبانہ ادا کی گئی۔ لاکھوں نمازیوں نے ان شہداء کی یاد میں نماز ادا کی جو غزہ پر قابض اسرائیل کی مسلط کردہ نسل کشی کی جنگ کے دوران شہید ہوئے۔ ان میں اسلامی تحریک مزاحمتِ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے قائدین بھی شامل ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک اور خطوں میں غائبانہ نمازِ جنازہ کے مناظر دیکھنے میں آئے جو حماس کی جانب سے دی گئی اپیل پر ادا کی گئیں۔ اس کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور غزہ کے شہید قائدین کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا۔
مقبوضہ بیت المقدس میں دسیوں ہزار فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ اور اس کے صحنوں میں نماز جمعہ ادا کی۔ اس کے بعد انہوں نے غزہ میں شہید ہونے والے مزاحمتی قائدین کی ارواح کے لیے نمازِ غائبانہ ادا کی۔
اسی دوران قابض اسرائیلی افواج نے اپنی سکیورٹی پابندیوں میں مزید سختی کر دی۔ صبح کے اوقات سے ہی القدس شہر کے گرد قائم عسکری چوکیوں پر نمازیوں کی آمد پر سخت پابندیاں نافذ کی گئیں جبکہ بلدہ قدیمہ اور مسجد اقصیٰ کے دروازوں کے اطراف لوہے کی رکاوٹیں بھی نصب کی گئیں۔
حماس نے گذشتہ جمعرات کو فلسطینی عوام اور عرب و مسلم امہ سے اپیل کی تھی کہ وہ فلسطین کی تمام مساجد اور دنیا بھر کے اسلامی مراکز میں غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کریں تاکہ شہید قائدین کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔
حماس نے واضح کیا کہ یہ اپیل شہید قائدین کی جدوجہد اور ارضِ فلسطین کے دفاع میں ان کی قربانیوں کے اعتراف کے طور پر کی گئی ہے جن میں سرِفہرست القدس اور مسجد اقصیٰ المبارک کا تحفظ شامل ہے۔
اسی تناظر میں القسام بریگیڈز نے گذشتہ پیر کے روز باضابطہ طور پر اپنے پانچ قائدین کی شہادت کا اعلان کیا۔ ان میں ترجمان ابو عبیدہ، خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر محمد السنوار، رفح بریگیڈ کے کمانڈر محمد شبانہ، عسکری صنعت کے شعبے کے سربراہ رائد سعد اور اسلحہ کے ذمہ دار حکم العیسی شامل ہیں جو ابو عمر السوري کے نام سے معروف تھے۔
