غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں مسلسل 112 ویں روز بھی قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا اور جمعہ کی علی الصبح وسطی غزہ کے مغازی کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں دو فلسطینی شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ قابض دشمن کے طیاروں نے مغازی کیمپ میں عام شہریوں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ولید حسن درویش اور یاسر محمد ابو شحادہ شہید ہو گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق آج صبح قابض اسرائیل کے طیاروں نے خان یونس کے علاقے مواصی میں پناہ گزینوں کے ایک خیمے کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک حاملہ خاتون سمیت 6 شہری زخمی ہو گئے۔
دریں اثنا قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے غزہ شہر کے ساحل پر ماہی گیروں کی کشتیوں کا تعاقب کیا اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے بھی رفح شہر پر گولہ باری کی اور شہر کے مختلف حصوں پر متعدد فضائی حملے کیے۔
قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے رفح میں ایک سرنگ سے نکلنے والے 8 مسلح افراد کو دیکھا جن میں سے 3 کو شہید کرنے اور دیگر کے تعاقب کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم فلسطینی ذرائع سے اس کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔ پٹی کے جنوب میں خان یونس کے مشرقی حصوں پر بھی قابض دشمن کی بکتر بند گاڑیوں نے بھاری فائرنگ کی۔
گذشتہ روز جمعرات کو بھی قابض اسرائیل کی فائرنگ سے تین فلسطینی شہید ہوئے تھے جن میں سے دو کا تعلق خان یونس اور تیسرے کا مغازی کیمپ سے تھا۔
جمعرات کی شام قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر رفح میں فائرنگ کے ساتھ ساتھ رہائشی عمارتوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے (نسف) کی کارروائیاں بھی کیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ رفح کے شمال میں موراغ محور کے قریب قابض دشمن کی گاڑیوں نے شدید فائرنگ کی جبکہ اسی وقت خان یونس اور غزہ شہر کے مشرقی علاقوں کو بھی بھاری گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
سیز فائر معاہدے کے نفاذ سے لے کر اب تک قابض افواج اپنی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 513 فلسطینیوں کو شہید اور 1356 کو زخمی کر چکی ہیں۔
سنہ 2023ء میں 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی نسل کشی کی اس جنگ میں اب تک قابض افواج 71,667 سے زائد شہریوں کو شہید اور 171,343 سے زائد کو زخمی کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کا تقریباً 90 فیصد حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جس کی تعمیرِ نو کی لاگت کا تخمینہ اقوام متحدہ نے تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔
