Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

فلسطینی پناہ گزینوں کی سہولیات میں 20 فیصد کمی، اونروا کا اعلان

مقبوضہ مغربی کارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) نے اتوار کے روز انکشاف کیا ہے کہ سیاسی اور معاشی دباؤ کے باعث فلسطینی پناہ گزینوں کو فراہم کی جانے والی خدمات میں 20 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے، ساتھ ہی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ شدت اختیار کرتا مالی بحران اس کی آپریشنل صلاحیتوں اور فرائض کی ادائیگی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

انروا کے ڈائریکٹر کمیونیکیشن جوناثان فاولر نے ایک صحافتی انٹرویو کے دوران وضاحت کی کہ ایجنسی کو براہ راست ایسی تشہیری مہمات کا سامنا ہے جن کا مقصد اس کے کام میں رکاوٹیں ڈالنا اور اس کے تشخص کو مسخ کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں واضح تنزلی دیکھی جا رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اب خلاف ورزیوں پر ماضی کی طرح صفائیاں پیش کرنے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی۔

جوناثان فاولر نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ادوار میں جب بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتی تھی تو کم از کم کسی حد تک شرمندگی کا احساس پایا جاتا تھا یا یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی تھی کہ خلاف ورزی سرزد نہیں ہوئی، مگر آج ہم ایک ایسی حقیقت کے سامنے کھڑے ہیں جہاں کچھ لوگ کھلے عام کہتے ہیں کہ مجھے بین الاقوامی قانون سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی میں خود کو اس کا پابند سمجھتا ہوں۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ جنوری سنہ 2026ء میں قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے مشرقی بیت المقدس میں انروا کے دفاتر پر قبضہ اور ان کا انہدام ان سنگین خلاف ورزیوں کی نمایاں ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔

فاولر نے واضح کیا کہ یہ اقدام ایک کھلی خلاف ورزی ہے کیونکہ انروا اقوام متحدہ کا ادارہ ہے اور اس کی تنصیبات کو نشانہ بنانا دراصل اقوام متحدہ کی املاک پر حملہ ہے، اس کے علاوہ بین الاقوامی قانون کے مطابق مشرقی القدس ایک مقبوضہ علاقہ ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ انروا کو اس وقت شدید مالی بحران کا سامنا ہے جس کی بنیادی وجہ رضاکارانہ عطیات پر انحصار ہے، یہی وجہ ہے کہ ایجنسی کی فنڈنگ سیاسی اتار چڑھاؤ کی زد میں رہتی ہے۔

انروا کے عہدیدار نے بتایا کہ ایجنسی کو اس وقت تقریباً 100 ملین ڈالر کے نقدی خسارے کا سامنا ہے جس کے باعث وہ اپنی خدمات بشمول تعلیم، صحت اور صفائی کے شعبوں میں 20 فیصد کمی کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

فاولر نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے کے حالات پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو چکے ہیں، انہوں نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں انروا کے تقریباً 400 ملازمین شہید کیے جا چکے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan