Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

فلسطینی پرچم کے ساتھ امریکی اہلکار کا جرأت مندانہ اعلان

واشنگٹن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی وائٹ ہاؤس میں قائم “کمیشن برائے مذہبی آزادی” کی رکن کیری بولر نے اپنے حالیہ بیانات اور ٹویٹس کے ذریعے امریکہ میں بحث کا ایک نیا طوفان برپا کر دیا ہے، جس میں انہوں نے “سیاسی صیہونیت” اور قابض اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے سامنے ہرگز نہیں جھکیں گی اور ایسا کرنے کے بجائے وہ موت کو ترجیح دیں گی۔

بولر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ وہ اب سیاسی صیہونیت اور ان جھوٹے پروپیگنڈوں کے خلاف مزید کھل کر بات کرنے کے لیے پرعزم ہیں جن کا سہارا لے کر نہ ختم ہونے والی جنگوں، معصوم بچوں کے قتل عام اور قابض ریاست کے لیے کھلے چیک بک کے جواز تراشے جاتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ کیتھولک عقیدے کی جانب ان کے رجحان نے انہیں بعض امریکی ایوینجلیکل حلقوں میں مذہب اور سیاسی ایجنڈوں کے خطرناک امتزاج پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔

اپنے بیانات میں انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی قوم خدا کے نام پر بات کرنے کا حق نہیں رکھتی اور نہ ہی کسی نظریے کو معصوموں کے قتل کا پروانہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں سمیت ہر انسانی جان خدا کا عکس ہے اور مذہب کے نام پر بمباری، فاقہ کشی اور اجتماعی قتل عام کا جواز پیش کرنا مسیح کی تعلیمات کے یکسر منافی ہے۔

منگل کی شام وائٹ ہاؤس میں مذہبی آزادی کے حوالے سے منعقدہ سماعت کے دوران صیہونیت کے تصور اور اظہارِ رائے کی آزادی کی حدود پر اس وقت تلخ کلامی ہوئی جب بولر اور اسرائیل نواز گواہوں کے درمیان امریکہ میں سامی دشمنی (Anti-Semitism) کی تعریف پر شدید بحث چھڑ گئی۔

سماعت کے دوران بولر نے قابض اسرائیل یا صیہونیت پر تنقید کو خود بخود یہودیوں کی دشمنی قرار دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کیتھولک کا صیہونیت کو مسترد کرنا انہیں لازمی طور پر سامی دشمن بناتا ہے؟ ان کے اس سوال نے ہال میں تناؤ پیدا کر دیا۔

دوسری جانب ایک گواہ نے اصرار کیا کہ مسلمہ تعریفوں کے مطابق صیہونیت کی مخالفت دراصل سامی دشمنی ہی ہے۔ ایک شریک ربی نے بھی دعویٰ کیا کہ قابض اسرائیل کے وجود کے حق کو مسترد کرنا منافقت اور سامی دشمنی ہے۔ اس پر بولر نے اپنی مذہبی شناخت کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دیا کہ وہ جدید اسرائیلی ریاست میں کوئی مذہبی پیش گوئی یا علامت نہیں دیکھتیں۔

سماعت کے دوران بولر نے امریکی اور فلسطینی پرچموں پر مشتمل ایک پن (بیج) لگا رکھا تھا، جس پر بعض شرکاء نے اعتراض کیا اور اسے سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیا۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس سیشن کی ویڈیو بڑے پیمانے پر وائرل ہو رہی ہے، جہاں حامیوں نے اسے اظہارِ رائے اور مذہبی آزادی کا دفاع قرار دیا، جبکہ اسرائیل نواز کارکنوں نے انہیں کمیشن سے برطرف کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

بولر نے بعد ازاں وضاحت کی کہ امریکی جھنڈے کے ساتھ فلسطینی پرچم کا بیج لگانا غزہ میں بمباری، جبری بے دخلی اور فاقہ کشی کا شکار ہونے والے شہریوں کے ساتھ ایک اخلاقی اظہارِ یکجہتی تھا۔ انہوں نے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے اپنے مذہب اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا۔

یاد رہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ءسے قابض اسرائیل امریکہ اور یورپ کی مدد سے غزہ پر ایسی وحشیانہ جنگ مسلط کیے ہوئے ہے جس میں قتل عام، فاقہ کشی، تباہی، جبری ہجرت اور گرفتاریاں شامل ہیں، اور یہ سب بین الاقوامی اپیلوں اور عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔

اس سفاکیت کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 43 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔ اس کے علاوہ 11 ہزار سے زائد لاپتہ ہیں، لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں اور قحط کی وجہ سے بے شمار جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ پورا غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan