طوباس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے طوباس کے مشرق میں واقع گاؤں تیاسیر کے قریب قابض صہیونی آبادکاروں کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے دوران گولی لگنے سے ایک فلسطینی نوجوان جامِ شہادت نوش کر گیا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ نوجوان علاء خالد صبیح تیاسیر گاؤں کے قریب ایک صہیونی بستی کے گرد و نواح میں آبادکاروں کی فائرنگ سے شہید ہوا۔ سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے قابض اسرائیلی فوج نے زخمی ہونے کے بعد اس کا جسدِ خاکی اپنے قبضے میں لے لیا اور اسے تاحال اغوا کر رکھا ہے۔
ذرائع نے وضاحت کی کہ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب علاقے کے بہادر فلسطینیوں نے غاصب آبادکاروں کے ایک حملے کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران قابض اسرائیلی فوج گاؤں میں گھس آئی اور نوجوانوں پر براہِ راست گولیاں برسانا شروع کر دیں، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان کو نشانہ بنانے کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔
اسی تناظر میں طوباس میں ہلال احمرنے بتایا کہ انہیں قصبے میں ایک نوجوان کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی تھی، لیکن قابض اسرائیلی فوج نے ان کی ٹیموں کو جائے وقوعہ تک پہنچنے سے روک دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض فوج تاحال ایمبولینس کے عملے کو یرغمال بنائے ہوئے ہے، ان کے موبائل فون اور شناختی کارڈز ضبط کر لیے گئے ہیں اور انہیں گزشتہ دو گھنٹے سے زائد وقت سے صہیونی بستی کے قریب موجود زخمی نوجوان تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
