مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جمع ہونے والے شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزدوروں کے خلاف منظم تعاقب کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جس کی بنیاد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہیں۔ یہ گرفتاریاں نام نہاد غیر قانونی داخلے یا موجودگی کے بہانے کی جاتی ہیں، اس کے بعد انہیں نہایت سخت اور غیر انسانی حالات میں حراست میں رکھا جاتا ہے، یوں مزدوروں کا معاملہ ایک انتظامی اقدام کے بجائے سکیورٹی اور تعزیری ہتھیار میں بدل دیا گیا ہے، جیسا کہ قابض قوتیں دعویٰ کرتی ہیں۔
یہ پالیسی کام کی جگہوں یا آمد و رفت کے دوران چھاپوں اور گرفتاریوں سے شروع ہوتی ہے، جو تیزی سے من مانے طور پر حراست میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ قیدیوں کو یا تو تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں بند کیا جاتا ہے یا عارضی مراکز میں رکھا جاتا ہے جہاں انسانی تقاضوں کا ادنیٰ معیار بھی میسر نہیں ہوتا، جو گرفتار افراد کے وقار اور بنیادی حقوق کی صریح پامالی ہے۔
قابض اسرائیلی فو ج مغربی کنارے کے فلسطینی مزدوروں کا تعاقب اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، انہیں سنہ 1948ء کی اراضی میں نام نہاد غیر قانونی موجودگی کا الزام لگا کر حراست میں لیا جاتا ہے۔ قانونی بیانات کے مطابق درجنوں مزدوروں کو ایسے حالات میں رکھا گیا جنہیں غیر انسانی اور انسانوں کے شایان شان نہ ہونے والا قرار دیا گیا، جہاں شدید گنجائش سے تجاوز اور مناسب حراست کی بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان ہے۔
حالیہ دنوں میں قابض اسرائیلی عدالتوں میں دائر کی گئی شکایات سے انکشاف ہوا کہ درجنوں فلسطینی گرفتار افراد کو ایسی تنگ کوٹھڑیوں میں رکھا گیا جو چند افراد کے لیے بنائی گئی تھیں، جبکہ بعض کو پولیس مراکز میں کئی کئی راتیں گزارنے پر مجبور کیا گیا جہاں سونے کے لیے مخصوص جگہ موجود نہیں تھی، چنانچہ کچھ افراد کو زمین پر یا دھاتی کرسیوں پر سونا پڑا۔
ایک واقعے میں اس ہفتے ایک فلسطینی گرفتار شخص کو القدس کے پہاڑی علاقے میں ایک کھلی کوٹھڑی میں کئی راتوں تک رکھا گیا، اس دوران اس کے ہاتھ اور پاؤں زنجیروں میں جکڑے رہے، جیسا کہ عدالت میں پیش کی گئی شہادتوں میں بتایا گیا۔
یہ معاملہ ایک ایسے فلسطینی مزدور سے متعلق ہے جسے قابض اسرائیل کی فورسز نے نام نہاد غیر قانونی موجودگی کے الزام میں گرفتار کیا اور القدس میں عطیروت نامی بستی میں سرحدی محافظ یونٹ کے ایک اڈے کے اندر قائم عارضی حراستی مرکز میں رکھا گیا۔
اس کے وکیل فارس مصطفیٰ نے القدس کی مجسٹریٹ عدالت میں سماعت کے دوران بتایا کہ اس کے موکل کو سرد موسم میں بغیر دیواروں اور زندگی کی بنیادی سہولیات کے ٹین کی چادروں اور سلاخوں سے بنے ایک پنجرے میں رکھا گیا۔
گرفتار شخص نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ اس نے نم ڈھکن والے ایک پنجرے میں کئی دن گزارے، اس کے پاؤں کی بیڑیاں سختی سے کَسی ہوئی تھیں اور وہ پورے وقت بندھا رہا، جبکہ چار دن تک اسے بیت الخلا استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ ان بیانات کے بعد جج اوفیر تیشلر نے اس کی رہائی کا حکم دیا اور کہا کہ اس کی حراست کے حالات اس کی صحت اور وقار کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
دیگر واقعات میں ملک کے جنوب میں عدالتی سماعتوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بڑی تعداد میں فلسطینی مزدوروں کو ایسی کوٹھڑیوں میں رکھا گیا جو بالکل بھی اس مقصد کے لیے تیار نہیں تھیں۔ عراد پولیس مرکز میں ایک ہی کوٹھڑی میں 34 گرفتار افراد کو رکھا گیا، یہ انکشاف بیر السبع کی مرکزی عدالت میں پانچ گرفتار افراد کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران ہوا۔
ان کی وکیل آیلت کوہن جو پبلک ڈیفنس اتھارٹی سے تعلق رکھتی ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے گرفتار افراد کو پنجرے کے اندر کھڑے دیکھا اور کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ 34 افراد ایک ہی کوٹھڑی میں کس طرح سو سکتے ہیں، وہ بھی نہایت خراب حالات میں، بالکل ڈبہ بند مچھلیوں کی طرح۔
کوهن نے مزید بتایا کہ گرفتار افراد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جب انہوں نے بیت الخلا جانے کی درخواست کی تو انہیں کہا گیا کہ ایک دوسرے پر ہی حاجت پوری کر لو۔ اس کے باوجود جج دانیال بن تولیلا نے درخواست مسترد کر دی اور گرفتار افراد کو حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا، یہ جواز پیش کرتے ہوئے کہ یہ ابتدائی حراست کا مرحلہ ہے اور محض ایک دن کا معاملہ ہے۔
ایک علیحدہ واقعے میں قابض اسرائیل کی فورسز نے نقب کے علاقے میں بلدات پولیس مرکز میں 21 فلسطینی گرفتار افراد کو دو ایسی کوٹھڑیوں میں بند رکھا جو چھ افراد سے زیادہ کی گنجائش نہیں رکھتیں۔
ایک گرفتار شخص نے بیر السبع کی مرکزی عدالت میں بیان دیا کہ ایک پولیس اہلکار نے اس سے کہا کہ تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو، تم غیر قانونی طور پر موجود ہو اور اس ریاست میں تمہارا کوئی حق نہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ گرفتار افراد کو گذشتہ دن سے صرف ایک سینڈوچ دیا گیا اور انہوں نے پوری رات انتظار گاہ میں دھاتی کرسیوں پر بیٹھ کر گزاری۔
ان شہادتوں سے، جیسا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور وکلا بتاتے ہیں، ایک منظم پالیسی عیاں ہوتی ہے جو فلسطینی مزدوروں کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ پالیسی محض قانونی بہانے سے گرفتاری تک محدود نہیں بلکہ ذلت آمیز سلوک اور نہایت سخت حالات میں حراست تک پھیلی ہوئی ہے، جو فلسطینیوں پر مسلط وسیع تر معاشی اور سکیورٹی دباؤ کا حصہ ہے۔
