Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کا قانون، جامعہ الازہر نے عالمی سطح پر مسترد کر دیا

انقرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مصر کی دینی درس گاہ جامعہ الازہر الشریف نے قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے قانون کی منظوری کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ اقدام ایک مکمل جرم اور انسانی اقدار سمیت بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ الازہر کی کبار علماء کونسل نے بدھ یکم اپریل سنہ 2026ء کو جاری کردہ ایک بیان میں اس قانون پر اپنی شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون فلسطینیوں کے قتل عام کو قانونی شکل دینے اور ان کی نسل کشی کی سرگرمیوں کو سند فراہم کرنے کے مترامد ہے۔

کبار علماء کونسل نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ رجحان قابض اسرائیل کے اس ہٹ دھرمی پر مبنی ارادے کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت وہ تشدد کی پالیسیوں کو جاری رکھنے اور بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر تلا ہوا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض اسرائیل اس کے ذریعے اپنے پیہم جرائم کو ایک جھوٹی قانونی ڈھال فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ عمل خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے اور مزید کشیدگی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

کونسل کبار علماء نے عرب اور اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے موقف میں اتحاد پیدا کریں اور ان جرائم کے ذمہ داروں کا عالمی سطح پر احتساب کیا جائے۔ بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے جاری قتل و غارت گری اس عظیم مقصد کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی اور فلسطین ہمیشہ ایک مقبوضہ عرب سرزمین رہے گی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan