Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

فلسطینی قیدیوں کی سزائے موت پر تونس میں عوامی اور سیاسی سطح پر شدید مذمت

تیونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے حوالے سے قابض اسرائیلی پارلیمنٹ کے فیصلے نے تونس میں مذمت کی ایک شدید لہر پیدا کر دی ہے۔ سیاسی، لیبریونینز، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے تمام حلقوں نے اس قدم کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مقامی اور عالمی سطح پر فوری تحرک کا مطالبہ کیا ہے۔

تونس کی نیشنل باڈی آف لائرز نے اس منصوبے کی منظوری کو انسانیت کو قرون وسطیٰ کے تاریک دور میں واپس دھکیلنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے ایک بے مثال جرم قرار دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قابض اسرائیل کی انتہا پسندانہ نسل پرستانہ فطرت کا عکاس ہے اور اس کے خلاف ایک عالمی مزاحمتی محاذ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب تیونسی لیبر آرگنائزیشن نے رائے دی ہے کہ یہ فیصلہ تمام بین الاقوامی قوانین اور بالخصوص جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے عالمی امن و سکیورٹی پر اس کے خطرناک اثرات سے خبردار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کے خلاف تادیبی اقدامات کرے اور پابندیاں عائد کرے۔

تیونسی طلبہ کی جنرل یونین نے بھی اس قانون کو منظم قتل عام کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے۔ طلبہ تنظیم نے اس موقع پر امریکہ کی سرپرستی اور بعض عرب ممالک کی ملی بھگت پر سخت تنقید کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر عوامی اور طلبہ احتجاج کی کال دی ہے۔

سیاسی سطح پر نیشنل سالویشن فرنٹ نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے قابض اسرائیل کی مجرمانہ اور نسل پرستانہ فطرت کی ایک اور دلیل قرار دیا ہے۔ فرنٹ کا کہنا ہے کہ یہ نسل کشی کے ایک نئے مرحلے میں منتقلی ہے جس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ قابض اسرائیل کے رہنماؤں کا بین الاقوامی فوجداری عدالت میں تعاقب کیا جائے۔

ڈیموکریٹک فورم پارٹی نے اس نسل پرستانہ قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر کے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے مظاہرے کریں کیونکہ یہ صورتحال عالمی نظام کی ساکھ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

اسی تناظر میں تونس میں حزب التحریر نے جہاد کا راستہ کھولنے اور دارالحکومت میں مظاہروں کی کال دی ہے۔ یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پیٹریاٹس پارٹی (الوطد) نے اس فیصلے کو انسانیت کے خلاف جرم اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کی ایک کڑی قرار دیتے ہوئے مزاحمت کی پشت پناہی پر زور دیا ہے۔

حركہ النهضہ نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد ان جابرانہ ہتھکنڈوں کو قانونی رنگ دینا ہے جن کے تحت اسیران کو پہلے ہی کسی قانونی فریم ورک کے بغیر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سول سوسائٹی کی سطح پر تیونسی اتحاد برائے سپورٹ فلسطین نے اسے ایک مکمل جنگی جرم قرار دیا ہے جبکہ انصار فلسطین سوسائٹی نے اس قانون کے ماضی کے کیسز پر اطلاق کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ فلسطین کے لیے مشترکہ ایکشن کوآرڈینیشن نے اسے سفاکیت کے ایک نئے اور زیادہ وحشیانہ مرحلے سے تعبیر کرتے ہوئے نارملائزیشن کی ہر شکل کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تیونسی انیشیٹو برائے سپورٹ اسیران نے بھی اس فیصلے کو ناکام بنانے کے لیے تمام کوششیں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف تنظیموں نے میدانی احتجاج کا شیڈول جاری کیا ہے جس کے تحت چار اپریل سنہ 2026ء کو سوسہ کے مقام پر اے امتِ ارب ہا! ہمارے اسیران کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں کے عنوان سے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا تاکہ فلسطینی اسیران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan