غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین مرکز برائے مطالعہ اسیران نے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے فلسطینی اسیران کے خلاف انتظامی حراست کے احکامات میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد کسی بھی قانونی جواز کے بغیر اسیران کی عمریں جیلوں کی نذر کر کے انہیں ذہنی و جسمانی طور پر ختم کرنا ہے، جو کہ انتظامی حراست سے متعلق بین الاقوامی قانون کی حدود سے صریح تجاوز ہے۔
مرکز کے ڈائریکٹر اور محقق ریاض الاشقر نے ایک پریس بیان میں واضح کیا کہ غزہ پٹی پر جاری نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے ہی قابض حکام نے انتظامی حراست کی پالیسی کو انتہائی وحشیانہ انداز میں تیز کر دیا ہے۔ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے قبل انتظامی اسیران کی تعداد تقریبا 1300 تھی، جو فروری سنہ 2026ء تک بڑھ کر 3500 سے تجاوز کر چکی ہے، یعنی اس میں تقریبا 270 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
الاشقر نے اشارہ کیا کہ یہ اضافہ اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے جس کا ہدف فلسطینی معاشرے کے باصلاحیت طبقے ایلیٹ کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا ہے۔ اس کا مقصد ان کی عمریں ضائع کرنا، ان کے مستقبل کو تاریک کرنا اور انہیں ایک نارمل سماجی زندگی گزارنے کے حق سے محروم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قابض اسرائیل رہا ہونے والے اسیران کو دوبارہ قلیل وقفوں کے ساتھ گرفتار کرنے کا عادی ہو چکا ہے اور ان میں سے ایک بڑی تعداد کو کئی سالوں تک انتظامی حراست کی قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انتظامی حراست کی پالیسی کا رخ خاص طور پر فلسطینی معاشرے کے متحرک کارکنوں، پڑھے لکھے طبقے، یونیورسٹی کے طلبہ، ماہرینِ تعلیم، صحافیوں، سماجی رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب ہے، یہاں تک کہ خواتین، بچے اور عمر رسیدہ افراد بھی اس سفاکیت سے محفوظ نہیں۔
الاشقر نے زور دے کر کہا کہ انتظامی حراست دراصل قابض اسرائیل کا فلسطینی عوام کے خلاف ایک اجتماعی سزا کا آلہ ہے، جس کے ذریعے وہ بااثر قیادت کو منظر نامے سے غائب کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سنہ 1967ء سے اب تک قابض حکام فلسطینی اسیران کے خلاف 75 ہزار سے زائد انتظامی حراست کے فیصلے جاری کر چکے ہیں، جن میں سے نصف سے زائد فیصلے مدتِ حراست میں مزید اضافے (تجدید) کے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پالیسی غاصب ریاست کے قیام سے ہی جاری ہے، تاہم دہائیوں کے دوران اس کی لہروں میں اتار چڑھاؤ آتا رہا۔ سنہ 1980ء میں یہ صفر تک پہنچ گئی تھی لیکن بعد ازاں اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا۔ سنہ 1987ء کی پہلی انتفاضہ کے دوران اس میں تیزی آئی، سنہ 1994ء کے اوسلو معاہدے کے بعد کمی واقع ہوئی، مگر انتفاضہ الاقصیٰ کے ساتھ یہ پھر پوری قوت سے لوٹ آئی۔ سنہ 2014ء کے بعد اس میں دوبارہ اضافے نے اسیران کو 62 دن کی طویل بھوک ہڑتال پر مجبور کر دیا تھا۔
الاشقر نے واضح کیا کہ غزہ میں جاری نسل کشی کی جنگ کے بعد اس پالیسی میں ایسا اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اب انتظامی اسیران کی تعداد تین گنا بڑھ چکی ہے اور وہ قابض اسرائیل کی جیلوں میں موجود کل اسیران کا 35 فیصد بنتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قابض اسرائیل کا انٹیلی جنس ادارہ (شاباک) انتظامی حراست کے ان معاملات کی مکمل نگرانی کرتا ہے، جہاں “خفیہ الزامات” کا سہارا لیا جاتا ہے جن تک کسی کو رسائی نہیں دی جاتی۔ اسیران پر نہ تو کوئی فردِ جرم عائد کی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی قانونی ثبوت پیش کیا جاتا ہے، جس سے محض سیکورٹی رپورٹس اور شبہات کی بنیاد پر برسوں قید جاری رکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس دوران معتقلین کو اپنے دفاع اور منصفانہ ٹرائل کی کم از کم ضمانتوں سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔
فلسطین مرکز نے اپنے بیان میں بتایا کہ یہ پالیسی صرف بالغ مردوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی زد میں کم سن بچے بھی ہیں؛ اس وقت کم از کم 90 بچے اور 16 خواتین انتظامی حراست میں ہیں۔ ان میں الخلیل سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ بچی ہناء حماد بھی شامل ہے جس کی حراست میں مسلسل تین بار توسیع کی جا چکی ہے۔
آخر میں مرکز نے واضح کیا کہ قابض دشمن ایک بار کی انتظامی حراست پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ہزاروں رہا ہونے والے اسیران کو چند ہفتوں یا مہینوں بعد دوبارہ اٹھا لیا جاتا ہے اور درجنوں ایسے اسیران بھی ہیں جن کی اصل سزا کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں رہا کرنے کے بجائے انتظامی حراست میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
