(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی قومی ایکشن کمیٹی نے جو چار فلسطینی عوامی کانفرنسوں اور متعدد آزاد شخصیات پر مشتمل ہے امریکی وزارت خزانہ کے اس فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت بیرونِ ملک فلسطینیوں کی نمائندہ عوامی کانفرنس کو نام نہاد امریکی دہشت گردی فہرستوں میں شامل کیا گیا ہے۔
کمیٹی نے میڈیا کو جاری پریس بیان میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ کسی معتبر قانونی بنیاد پر قائم نہیں نہ ہی یہ کسی بااختیار عدالتی ادارے کی جانب سے صادر ہوا ہے اور نہ ہی کسی عدالت کے فیصلے یا کسی بین الاقوامی پابند حکم پر مبنی ہے بلکہ یہ ایک یک طرفہ سیاسی انتظامی اقدام ہے جو طاقت کے توازن اور دباؤ کے تابع ہے نہ کہ انصاف اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق۔
بیان میں اس تضاد کی نشاندہی کی گئی کہ وہی فریق جو منظم دہشت گردی کو سیاسی ،عسکری اور مالی تحفظ فراہم کرتے ہیں اور غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی جنگ کی سرپرستی کر رہے ہیں وہی خود کو اقوام اور اداروں کی درجہ بندی کا منصف بنا کر پیش کرتے ہیں۔
قومی کمیٹی نے کہا کہ اس قسم کی فہرستیں بین الاقوامی انسانی قانون ،عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلوں اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کو یکسر نظر انداز کرتی ہیں اور یہ کہ ان کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت اس ریاست کے داخلی دائرے سے باہر نہیں جس کی جانب سے یہ جاری کی جاتی ہیں۔
کمیٹی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکی فیصلہ اس کے قومی اور عوامی جدوجہد کے راستے پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا نہ ہی بیرونِ ملک فلسطینیوں کی عوامی کانفرنس یا فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے سرگرم اداروں کے ساتھ اس کی شراکت داری متاثر ہو گی جن میں سرِفہرست حقِ واپسی خود ارادیت کا حق اور قابض اسرائیل کے قبضے کا خاتمہ شامل ہے۔
بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بیرونِ ملک فلسطینی عوامی کانفرنس ایک جائز اور قانونی حق ہے جسے ادارے ان ممالک کے قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے انجام دیتے ہیں جہاں وہ سرگرم ہیں اور یہ کہ مجرمانہ رنگ دینے اور کردار کشی کی کوششیں فلسطینیوں کے عزم کو توڑ سکتی ہیں اور نہ ہی ان کے منصفانہ مقدمے کو دنیا کے آزاد انسانوں سے الگ کر سکتی ہیں۔
قومی کمیٹی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ فلسطین ہمیشہ رہنمائی کا مرکز رہے گا اور انصاف کا پیمانہ اقوام کے حقوق اور مظلوموں کی ثابت قدمی سے طے ہوتا ہے نہ کہ ان فہرستوں سے جو جرائم کی پشت پناہی میں ملوث سیاسی انتظامیہ جاری کرتی ہیں۔
اسی تناظر میں امریکہ نے بدھ 22 جنوری کو بیرونِ ملک فلسطینیوں کی عوامی کانفرنس پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ غزہ میں سرگرم چھ فلاحی اداروں کو بھی اس فیصلے کی زد میں لایا گیا اور ان پر حماس کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
امریکی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ یہ ادارے فلسطینی شہریوں کو طبی نگہداشت فراہم کرنے کا کام کرتے ہیں جب کہ امریکیوں کا جھوٹا دعویٰ ہے کہ یہ القسام بریگیڈز کی معاونت کرتے ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بیرونِ ملک فلسطینیوں کی عوامی کانفرنس کا آغاز فروری 2017ء میں ہوا تھا جب ترکیہ کے شہر استنبول میں ایک وسیع اجلاس منعقد ہوا جس میں تقریباً پچاس ممالک سے ہزاروں فلسطینیوں نے شرکت کی اور یہ کانفرنس خود کو ایک عالمی عوامی فریم ورک کے طور پر پیش کرتی ہے جس کا مقصد بیرونِ ملک فلسطینیوں کی کوششوں کو یکجا کرنا ان کی سیاسی شمولیت کو مضبوط بنانا اور قومی منصوبے میں ان کے کردار کو بحال کرنا ہے۔
