Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلسطینی شہداء کے اعضاء کی صہیونی چوری: عالمی قانون کے منہ پر طمانچہ

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک طرف قابض اسرائیلی حکام عالمی سطح پر خود کو انسانیت کا علمبردار اور اعضاء کے عطیات کے شعبے میں صفِ اول کی ریاست کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور گردوں کے عطیات میں عالمی ریکارڈ قائم کرنے پر فخر جتا رہے ہیں، تو دوسری جانب وہ ہولناک اور لرزہ خیز حقائق سامنے آ رہے ہیں جو فلسطینیوں کے زندہ و مردہ اجسام کے خلاف قابض دشمن کی وحشیانہ سفاکیت اور سنگین جرائم کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ ان جرائم میں شہداء کے جسدِ خاکی کو قید کرنا، ان کی حرمت پامال کرنا اور ان کے جسمانی اعضاء چوری کرنے کے وہ شواہد شامل ہیں جو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہیں۔

فلسطین اور فلسطینی اسیران کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن (31 جنوری) کے موقع پر قابض دشمن کے زیرِ قبضہ شہداء کے جسدِ خاکی کا تڑپا دینے والا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ شہداء کے سوگوار لواحقین، بے بس ڈاکٹروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی بڑھتی ہوئی شہادتیں اس لرزہ خیز حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ محض لاشوں کو روکنے کی کوئی انتظامی پالیسی نہیں بلکہ ایک ایسا منظم اور گھناؤنا جرم ہے جو عالمی ضمیر کی مجرمانہ خاموشی کے سائے میں انجام دیا جا رہا ہے۔

تشدد سے شہادت۔۔۔ اور بے حرمتی کا شکار جسدِ خاکی

قابض دشمن کے عقوبت خانوں میں بدترین تشدد کے باعث اپریل سنہ 2024 میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ممتاز فلسطینی آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عدنان البرش کی بیوہ یاسمین البرش نے اس خونچکاں خدشے کا اظہار کیا ہے کہ غاصب اسرائیل نے ان کے شوہر کے جسم سے اعضاء نکال لیے ہیں۔

یاسمین البرش نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دل گرفتہ انداز میں بتایا کہ ان کے شوہر کی شہادت کے فوری بعد ان کے جسدِ خاکی کو ابو کبیر فارنزک انسٹی ٹیوٹ منتقل کر دیا گیا، جو کہ پوسٹ مارٹم کے نام پر فلسطینیوں کی لاشوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے لیے اسرائیل کا ایک بدنامِ زمانہ مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسدِ خاکی کو آج تک قید میں رکھنا اور اہل خانہ کے حوالے نہ کرنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ شہید کے جسم کی حرمت کو پامال کیا گیا اور اس کے ساتھ ہولناک کھیل کھیلا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قابض دشمن نے اہل خانہ کو پوسٹ مارٹم کی کوئی باضابطہ رپورٹ نہیں دی، جس نے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے ان خدشات کو یقین میں بدل دیا ہے کہ اسرائیلی اداروں کے اندر شہید کے جسم کو کس بے دردی سے نوچا گیا۔

ریکارڈ توڑ اعداد و شمار اور اعضاء کا پرسرار منبع

غزہ میں وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے قابض دشمن کے خلاف براہِ راست فردِ جرم عائد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ گردوں کے ان عالمی ریکارڈ عطیات کا اصل منبع کیا ہے جن پر اسرائیل دنیا بھر میں اتراتا پھر رہا ہے؟

ڈاکٹر منیر البرش نے ہمارے نامہ نگار کو دیے گئے ایک بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ قابض دشمن جو برسوں سے فلسطینی شہداء کے پاکیزہ اجسام کو سرد خانوں میں قید کیے ہوئے ہے اور انہیں لواحقین کے سپرد کرنے سے انکاری ہے، وہی آج انسانیت کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر عطیات کی باتیں کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ پردے کے پیچھے انسانیت کا لہو پی رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایسے بے شمار دستاویزی کیسز موجود ہیں جن میں شہداء کے اجسام جب برسوں بعد لواحقین کو ملے تو وہ ادھورے تھے اور ان میں سے اہم اعضاء غائب تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ اس عالمی سطح کی منظم چوری کا پردہ چاک ہو سکے۔

لیث ابو معیلق۔۔۔ ایک ماں کی تڑپ اور ادھورا جسدِ خاکی

ان لرزہ خیز شبہات کو تقویت دینے والی شہادتوں میں نوجوان شہید لیث ابو معیلق کا معاملہ انتہائی دردناک ہے۔ لیث 7 اکتوبر سنہ 2023 کو شہید ہوئے، جس کے بعد قابض دشمن نے ان کا جسدِ خاکی چھین لیا۔ بعد ازاں جنگ بندی کے پہلے دن 23 اکتوبر سنہ 2023 کو ایک ڈیل کے تحت یہ جسدِ خاکی لواحقین کے حوالے کیا گیا۔

شہید کی غمزدہ والدہ کا کہنا ہے کہ اصل قیامت اس وقت ٹوٹی جب انہوں نے اپنے لختِ جگر کے جسم کو دیکھا۔ جسم کے نازک حصوں پر ایسے ٹانکے لگے ہوئے تھے جن کی کوئی طبی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی قابض دشمن نے کوئی رپورٹ فراہم کی۔ والدہ کا کہنا ہے کہ ٹانکوں کے وہ نشانات پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ قید کے دوران شہید کے جسم سے اعضاء نکالے گئے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ شہداء کی حرمت کسی سیاسی سودے بازی کی نذر نہیں ہو سکتی اور وہ اس سفاکیت کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔

اعضاء کی چوری کے منظم شواہد اور صہیونی درندگی

فلسطینی شہداء کے اعضاء کی چوری محض افواہ نہیں بلکہ ایک ایسی لرزہ خیز حقیقت ہے جس کے پیچھے منظم شواہد موجود ہیں۔ سب سے پہلا ثبوت شہداء کے اجسام کو “نمبروں والی قبروں” یا سرد خانوں میں طویل عرصے تک قید رکھنا ہے، تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی تبدیلیاں ان جرائم پر پردہ ڈال سکیں۔

دوسرا ثبوت ان اجسام کو خفیہ طور پر اسرائیلی فارنزک مراکز منتقل کرنا ہے، جہاں لواحقین کی اجازت کے بغیر جراحی کی جاتی ہے۔ تیسرا اور سب سے بڑا ثبوت ان اجسام کی واپسی ہے جن کے پیٹ اور سینے چاک ہوتے ہیں اور انہیں بے دردی سے سیا گیا ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کی رپورٹوں کے مطابق، قرنیے، جگر اور گردوں کی چوری کے واضح نشانات ملے ہیں جنہیں اب جنگی جرائم کے طور پر عالمی عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔

نمبروں والی قبریں: گمنام موت کا کرب

“شہداء کے جسدِ خاکی کی واپسی کی قومی مہم” نے دل دہلا دینے والے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ قابض دشمن نے اب تک 776 فلسطینیوں کے اجسام کو نمبروں والی قبروں اور سرد خانوں میں قید کر رکھا ہے، جن میں معصوم بچے اور مظلوم اسیران بھی شامل ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ قابض دشمن نے حالیہ نسل کشی کے دوران غزہ کی پٹی میں 250 سے زائد قبروں کو اکھاڑ کر مردوں کی بے حرمتی کی، جو انسانیت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔

بین الاقوامی قانون کی بے بسی

بین الاقوامی قانون کے پروفیسر رائد ابو بدویہ نے کہا کہ شہداء کے اجسام کے ساتھ یہ کھلواڑ جنیوا کنونشن کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بنجمن نیتن یاھو کی حکومت ان جرائم کی براہِ راست ذمہ دار ہے۔ بین الاقوامی قانون واضح ہے کہ ہر جسدِ خاکی کا احترام واجب ہے، لیکن غاصب اسرائیل نے فلسطینیوں سے جینے کا حق تو چھینا ہی تھا، اب وہ ان سے عزت کے ساتھ دفن ہونے کا حق بھی چھین رہا ہے۔

عالمی منافقت کا عروج

یہ تمام لرزہ خیز انکشافات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب غاصب اسرائیل کے وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز نے یہ ڈھنڈورا پیٹا کہ اسرائیل نے گردوں کے عطیات میں عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے اس کی توثیق کی ہے۔ یہ عالمی برادری کی وہ منافقت ہے جہاں ایک نسل کش ریاست کو اس کے نام نہاد “انسانی کارناموں” پر خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ فلسطینی شہداء کے لٹے پٹے اجسام انصاف کے منتظر ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan