(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنان میں فلسطینی مہاجر کیمپوں اور اجتماعات میں شدید غم و غصے کی فضا پائی جا رہی ہے۔ یہ ردعمل ان اقدامات کے خلاف سامنے آیا ہے جو فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی ’انروا‘ سے منسوب کیے جا رہے ہیں اور جنہیں براہ راست فلسطینی قومی شناخت پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات میں تعلیمی مواد سے فلسطین کا نام حذف کرنا اور ’انروا‘ کے سکولوں اور اداروں میں قومی علامات کے استعمال پر پابندی عائد کرنا شامل ہے۔
اسی تناظر میں لبنان میں حماس کے عوامی شعبے نے ایک سخت لہجے میں بیان جاری کیا ہے جس میں انروا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ایک منظم مہم کے تحت فلسطینی قومی شناخت اور قضیہ فلسطین سے جڑی علامات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات قومی شعور کو مٹانے اور نئی نسلوں سے فلسطینی قضیہ اوجھل کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔
بیان میں وضاحت کی گئی کہ اس مہم کے تحت فلسطین کا نام حذف کیا جا رہا ہے، فلسطین کے نقشے کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے، نصاب سے فلسطینی قضیہ سے متعلق ہر شے نکالی جا رہی ہے، قومی علامات جیسے کفیہ یا فلسطین کا نقشہ اٹھانے یا آویزاں کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اور کسی بھی قومی نوعیت کی سرگرمی یا اظہار پر ملازمین کو سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
لبنان میں حماس نے زور دے کر کہا کہ یہ اقدامات براہ راست فلسطینی قضیہ اور قومی شناخت کو نشانہ بناتے ہیں اور قابض اسرائیل کے ان منصوبوں کی خدمت کرتے ہیں جن کا مقصد فلسطینی قضیہ کو مٹا دینا اور اس کے تاریخی اور قومی مفہوم کو کھوکھلا کرنا ہے۔ حماس کے مطابق یہ رویہ فلسطینی عوام اور ان کے برحق قضیہ پر تہذیبی ثقافتی اور سیاسی حملے کے مترادف ہے۔
بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ انروا کی یہ پالیسیاں بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں سے متصادم ہیں جو فلسطینی قضیہ کو تسلیم کرتی ہیں، فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے حق کو مانتی ہیں اور مہاجرین کے حق واپسی کی ضمانت دیتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ پالیسیاں انسانی حقوق کے ان اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہیں جو رائے اور اظہار کی آزادی کو یقینی بناتے ہیں۔
حماس نے فلسطینی قومی شناخت کو نشانہ بنانے کی اس کارروائی کی مکمل ذمہ داری انروا پر عائد کی اور مطالبہ کیا کہ اس خطرناک راستے کو فوری طور پر بنیادی اور حتمی طور پر درست کیا جائے۔ بیان میں نصاب تعلیم اور ایجنسی کے تمام اداروں میں فلسطین اور قومی شناخت سے جڑی ہر شے کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
حماس نے انروا کے طرز عمل کے خلاف ہونے والی عوامی اور طلبہ تحریکوں اور احتجاجات کو سراہتے ہوئے انہیں قومی وابستگی اور ثابت شدہ حقوق سے تمسک کا سچا اظہار قرار دیا۔
یہ موقف ان بیانات کے سلسلے کا حصہ ہے جو فلسطینی قومی اداروں اور نوجوانوں اور طلبہ کی تنظیموں کی جانب سے سامنے آ رہے ہیں۔ ان بیانات کے ساتھ ساتھ عملی سطح پر سکولوں میں ہڑتالیں اور کیمپوں میں انروا کے متعدد سکولوں کی بندش بھی دیکھی گئی ہے، جو قومی شناخت اور طلبہ کے شعور کو نقصان پہنچانے کے خلاف احتجاج کی صورت ہے۔
یہ پیش رفت لبنان میں فلسطینی مہاجرین اور انروا انتظامیہ کے درمیان برسوں سے جاری تناؤ کے تسلسل کا حصہ ہے جو تعلیمی اور انتظامی پالیسیوں کے باعث بار بار احتجاجات کا سبب بنتا رہا ہے۔
ان پالیسیوں میں غیر جانبداری کے نام پر اساتذہ اور ملازمین کی برطرفی یا معطلی، تعلیمی اور طبی خدمات میں کٹوتیاں شامل رہی ہیں، جنہیں فلسطینی قوتوں نے مہاجرین کے قومی اور سماجی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔
گذشتہ ادوار میں انروا کے سکولوں اور مراکز میں ہڑتالیں اور دھرنے بھی دیکھنے میں آئے ہیں جن کا مقصد تعلیمی عمل میں قومی پہلو کو نظر انداز کرنے کے خلاف احتجاج تھا۔ اس دوران ایجنسی کی انتظامیہ پر سیاسی دباؤ کے سامنے جھکنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے جو اس کے اقوام متحدہ کے مینڈیٹ سے متصادم ہیں، کیونکہ یہ مینڈیٹ فلسطینی مہاجرین کے حقوق کے تحفظ، ان کی قومی یادداشت اور تاریخی بیانیے کے دفاع پر مبنی ہے۔
فلسطین کا نام حذف کرنے اور قومی علامات پر پابندی کے معاملے نے ایک بار پھر اس تنازع کو شدت کے ساتھ ابھار دیا ہے۔ اسے اس متنازع سلسلے کی ایک نئی کڑی اور طلبہ و عوامی سطح پر وسیع احتجاج کا محرک قرار دیا جا رہا ہے، جس نے انروا کے سکولوں میں تعلیم کے مستقبل اور فلسطینی عوام کی نکبہ اور حق واپسی پر عالمی گواہ کے طور پر ایجنسی کے کردار کو ایک بار پھر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
