رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین کی مقدس سرزمین پر جب رمضان المبارک کی پرنور ساعتیں جلوہ گر ہوتی ہیں اور فضاؤں میں سحر و افطار کی برکتیں بکھرتی ہیں، عین اسی وقت غاصب اسرائیلی عقوبت خانوں کی تاریک کوٹھڑیوں میں مقید ہماری مائیں اور بہنیں ایک ایسی کربناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جس کا تصور ہی روح کو لرزا دیتا ہے۔ یہ اسیرات اپنے پیاروں کی چھاؤں اور معصوم بچوں کی مسکراہٹوں سے دور، ظلم و استبداد کے ان قید خانوں میں مقید ہیں جہاں انسانیت سسک رہی ہے اور ادنیٰ ترین انسانی سہولیات کا وجود تک نہیں ہے۔
جب غزہ کی پٹی سے لے کر مقبوضہ بیت المقدس تک تمام فلسطینی خاندان افطار کے دسترخوانوں پر نعمتوں کے شکر کے ساتھ جمع ہوتے ہیں، تب ان تپتی سلاخوں کے پیچھے درجنوں مائیں اپنے جگر گوشوں کی یاد میں خون کے آنسو روتی ہیں۔ دشمن کی جانب سے عائد کردہ وحشیانہ پابندیوں اور تذلیل آمیز رویوں نے اس ماہِ مقدس کو ان مظلوم خواتین کے لیے اذیت اور مسلسل ابتلا کا ایک نیا باب بنا دیا ہے۔
رمضان کی آڑ میں ظلم کی انتہا
کمیشن برائے امور اسیران و محرورین کے مشیر حسن عبد ربہ نے اس لرزہ خیز صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تقریباً 70 فلسطینی اسیرات، جن کے آنچل میں 24 ماؤں کی ممتا بھی شامل ہے، “دامون” نامی جہنم نما جیل میں رمضان کی کٹھن گھڑیاں کاٹ رہی ہیں۔ ان کے گھروں میں افطار کے وقت ان کی خالی کرسیاں ان کے بچوں اور بوڑھے والدین کے لیے ایک ایسا مستقل زخم بن چکی ہیں جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
حسن عبد ربہ نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے خصوصی گفتگو میں انکشاف کیا کہ ان میں سے اکثر خواتین کو صرف اس جرم میں اسیر کیا گیا ہے کہ انہوں نے غاصب دشمن کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ ان میں قلم کی حرمت بچانے والی صحافی خواتین، قوم کا مستقبل کہلانے والی طالبات اور وہ معصوم بچیاں بھی شامل ہیں جن کی عمریں ابھی کھیل کود کی تھیں۔ غاصب اسرائیل نے نہ صرف ان کی ملاقاتوں پر سنگین پہرہ بٹھا رکھا ہے بلکہ وکلاء تک رسائی کو بھی ناممکن بنا دیا ہے تاکہ دنیا کی نظروں سے اوجھل ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کا کوئی سراغ نہ مل سکے۔
انہوں نے 10 سالہ ننھی ایلیہ ملیطات کی مثال دی، جو اس سال رمضان کے دسترخوان پر تنہا بیٹھی اپنے ان والدین کی راہ تک رہی ہے جو انتظامی حراست کے نام پر غاصب دشمن کی قید میں ہیں۔ وہ ننھے ہاتھ جو دعا کے لیے اٹھتے ہیں، وہ اپنے ماں باپ کی شفقت کے بجائے وکلاء کے ذریعے ملنے والی کسی مبہم خبر کے منتظر رہتے ہیں۔
رہا ہونے والی اسیرات کے لرزہ خیز بیانات بتاتے ہیں کہ جیل انتظامیہ انتہائی خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان خواتین کو رمضان کے آغاز تک کی خبر نہیں ہونے دیتی۔ ان سے سحر و افطار کے اوقات اور کیلنڈر تک چھین لیے گئے ہیں، جس کے باعث یہ صابر خواتین محض گمان اور اندازے کی بنیاد پر اپنے رب کے حضور روزہ پیش کرتی ہیں۔
کھانے کے نام پر ان اسیرات کو وہ غلاظت دی جاتی ہے جسے دیکھ کر انسانی طبیعت مالش کرنے لگے۔ سحر اور افطار کا کھانا ایک ساتھ، بالکل ٹھنڈا اور ناصاف پانی کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ ان کی تھالیوں میں صرف تین چمچ کچے پکے چاول، گلی سڑی سبزیاں اور حد سے زیادہ ابلا ہوا ایک انڈا ہوتا ہے۔ اگر کوئی بیٹی اس بدترین سلوک پر صدائے احتجاج بلند کرے تو اسے مزید فاقوں اور تنہائی کی کال کوٹھڑی کی سزا دی جاتی ہے۔
طبی غفلت کی صورت میں ایک خاموش نسل کشی جاری ہے۔ دائمی امراض میں مبتلا مائیں تڑپتی رہتی ہیں لیکن انہیں تشخیص کے بغیر محض ایک ہی گولی تھما دی جاتی ہے، جو ان کی زندگیوں کو بتدریج موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔
سفاکیت کا نہ رکنے والا سلسلہ
کمیشن برائے امور اسیران و محرورین کے سابق سربراہ قدورہ فارس نے ان حالات کو “مسلسل نکہ” (تباہی) قرار دیا ہے۔ انہوں نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ اسیرات کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ سلوک محض اتفاقیہ نہیں، بلکہ فلسطینی قوم کے عزم کو توڑنے اور ان کی غیرت و حمیت کو نشانہ بنانے کی ایک گہری صہیونی سازش ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین کے ان عقوبت خانوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں، ہوا کا گزر نہیں اور نہ ہی وہاں کوئی پردہ یا رازداری میسر ہے۔ یہ اسیرات ایک ایسے نفسیاتی اور جسمانی دباؤ میں ہیں جہاں ہر لمحہ تلاشی کے نام پر ان کی حرمت پر حملہ کیا جاتا ہے اور جرمانے عائد کر کے ان کی زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے۔
قدورہ فارس کے مطابق، یہ صرف ان اسیرات کی قید نہیں بلکہ پورے فلسطین کی ممتا کا امتحان ہے۔ وہ بچے جو اپنی ماؤں کی گود سے محروم کر دیے گئے، وہ اس صیہونی سفاکیت کا زندہ ثبوت ہیں جو عالمی ضمیر کے منہ پر ایک تماچہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ وہ آگے بڑھیں اور ان بیٹیوں کو غاصب اسرائیل کے ان عقوبت خانوں سے نجات دلائیں جہاں انسانی حقوق کے تمام چارٹر پامال کیے جا رہے ہیں۔
