اردن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری حالیہ جنگ اور اس کے اثرات پر توجہ مرکوز کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ غزہ میں جاری انسانی تباہی کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ایمن الصفدی نے غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ منصوبے پر عمل درآمد میں پیش رفت کی اہمیت پر بھی شد و مد کے ساتھ زور دیا۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوعہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کی سنگینی کا نوٹس لے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل مغربی کنارے کے الحاق اور دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کرنے کے اپنے منصوبے پر مسلسل عمل پیرا ہے، جبکہ یہی حل منصفانہ اور جامع امن کے حصول کا واحد راستہ ہے۔
وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے عبادت کی آزادی پر قدغنیں لگانے اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران نمازیوں کو مسجد اقصیٰ تک پہنچنے سے روکنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے اسے بین الاقوامی قوانین اور بطور قابض قوت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
