غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریکِ مزاحمت (حماس) نے کہا ہے کہ مجرم اور انتہا پسند ایتمار بن گویر کی نگرانی میں عوفر نامی قابض اسرائیلی عقوبت خانے میں فلسطینی اسیران پر ڈھائی جانے والی بدترین سفاکیت کے مناظر جنہیں مجرم صہیونی دشمن نے خود نشر کیا، ایک نیا جنگی جرم اور اسیران سے متعلق بین الاقوامی انسانی قوانین کے لیے کھلا چیلنج ہیں۔
حماس نے ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ہمارے ہیرو اسیران کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم اور سزائے موت کے قانون کی منظوری پر عالمی خاموشی نے فاشسٹ قابض دشمن کو جیلوں کے اندر اپنی وحشیانہ کارروائیاں جاری رکھنے کی شہ دے رکھی ہے، جو کہ درحقیقت فلسطینی عوام کی نسل کشی اور نسلی تطہیر کی جاری جنگ ہی کا ایک تسلسل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمارے بہادر اسیران کو جس طرح جسمانی اور نفسیاتی طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ پوری دنیا کے اداروں اور حکومتوں کو ان کی انسانی، اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں کے کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے تاکہ قابض دشمن کو لگام دی جائے اور جیلوں کے اندر اس کے جرائم کو روکا جائے۔
حماس نے تمام سطحوں پر فوری اقدام کی اپیل کی ہے تاکہ ہمارے اسیران کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور قابض اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے اسے ہمارے عوام کے خلاف کیے جانے والے جرائم پر کٹہرے میں لایا جائے۔
بیان کے اختتام پر اس عہد کا اعادہ کیا گیا کہ اسیران ہمارے پاس ایک مقدس امانت ہیں، ہم ان کے منصفانہ کاز کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور دنیا بھر میں موجود فلسطینی عوام ان کی آزادی تک ان کے ساتھ وفادار رہیں گے۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل کے نام نہاد وزیر برائے قومی سکیورٹی اطمار بن گویر نے جمعہ کی صبح رام اللہ کے قریب واقع عوفر نامی قابض اسرائیلی عقوبت خانے کی کوٹھڑیوں پر دھاوا بولا تھا اور اسیران کو موت کے گھاٹ اتارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔
قابض اسرائیل کے چینل سات کے مطابق یہ دراندازی ماہِ رمضان المبارک کی آمد سے قبل کی گئی جس کے دوران اسیران کی کوٹھڑیوں کا تذلیل آمیز چکر لگایا گیا۔
مذکورہ چینل کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں ایتمار بن گویر کے عوفر جیل پر حملے کے دوران اسیران پر تشدد اور ان کی سرکوبی کے لرزہ خیز مناظر دکھائے گئے ہیں۔
