Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلسطینی اسیران سے اظہار یکجہتی پر مراکشی فٹ بالر کو صہیونی وزیر کی دھمکیاں

مراکش – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مراکش کے مشہور فٹ بال کلب الوداد کے مایہ ناز کھلاڑی 33 سالہ حکیم زیاش کو فلسطینی اسیران کی حمایت میں آواز بلند کرنے پر قابض اسرائیلی حکومت کے دہشت گرد وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کی جانب سے کھلے عام دھمکی دی گئی ہے۔

مغرب نیوز کے انگریزی ایڈیشن کی جانب سے منگل کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق حکیم زیاش نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایتمار بن گویر کی ایک تصویر شیئر کی جس میں انہوں نے فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کے ظالمانہ قانون کے قانونی اور اخلاقی جواز پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ایتمار بن گویر اس بار بھی یہ دعویٰ کریں گے کہ نئے قانون کی منظوری محض دفاعِ نفس ہے؟

اس پر انتہا پسند صہیونی وزیر ایتمار بن گویر نے فوری ردعمل دیتے ہوئے مراکشی کھلاڑی پر براہ راست حملہ کیا اور کہا کہ ایک سامی دشمن کھلاڑی اخلاقیات پر لیکچر نہیں دے سکتا۔ انہوں نے مزید دھمکایا کہ ان کی حکومت اب اپنے دشمنوں کے ساتھ کسی قسم کی احتیاط نہیں برتے گی۔ ان کا یہ اشارہ قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر فلسطینیوں کے خلاف پالیسیوں کو مزید سخت کرنے اور سزائے موت کے نئے قانون کے اطلاق کی طرف تھا۔

حکیم زیاش اپنے سوشل میڈیا پیغامات اور میڈیا بیانات کے ذریعے فلسطینی کاز کی حمایت کے لیے عالمی شہرت رکھتے ہیں اور وہ کئی مواقع پر فلسطینی پرچم تھامے ہوئے بھی نظر آئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکیم زیاش کا یہ پیغام قابض حکام کی جانب سے گذشتہ مارچ سنہ 2026ء کے اواخر میں اس قانون کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت فلسطینی اسیران اور قابض اسرائیل کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے ہر فلسطینی کو سزائے موت دی جا سکے گی۔ اس سفاکانہ قانون پر بین الاقوامی اور فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں میں پہلے سے موجود ابتر معیشتی اور طبی حالات کے درمیان ہزاروں قیدیوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

حکیم زیاش اپنی ان سرگرمیوں کی وجہ سے فلسطینیوں کے نصب العین کے بڑے حامی سمجھے جاتے ہیں جو اپنے سرکاری اکاؤنٹس سے پیغامات بھیجنے کے علاوہ میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں بھی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کئی بار مقبوضہ فلسطین میں موجود اپنے بھائیوں کی حمایت میں فلسطینی پرچم زیب تن کر کے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا کہ حکیم زیاش کے اس احتجاج کی اصل وجہ مارچ سنہ 2026ء کے اواخر میں منظور ہونے والا وہ کالا قانون ہے جس کے ذریعے قابض اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کا ایک نیا قانونی ہتھیار مل گیا ہے۔ یہ قانون ہر اس فلسطینی کو موت کی نیند سلانے کی اجازت دیتا ہے جو اپنے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھاتا ہے جس پر عالمی حقوقِ انسانی کے اداروں نے اسیران کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan