Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

فلسطینی استقامت کے علمبردار، شہید صالح العاروریؒ

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے شہید قائد شیخ صالح محمد سلیمان العاروری محض فلسطینی مزاحمت کے قائدین کی فہرست میں درج ایک نام نہیں تھے بلکہ وہ ہمہ گیر قومی وابستگی کی مجسم تصویر تھے، جن کی شخصیت میں بندوق اور سیاست، وحدت اور مزاحمت، القدس اور اسیران ایک ہی نصب العین میں سمٹ آئے تھے۔

العاروری ایسے قائد کی روشن مثال تھے جو تنگ نظر گروہی وابستگی سے بلند ہو کر ایک جامع قومی افق تک پہنچے۔ وہ اس حقیقت پر کامل یقین رکھتے تھے کہ فلسطین کی آزادی صرف صفوں کے اتحاد، مزاحمت کو ایک جائز حق سمجھنے اور شہداء و اسیران کی قربانیوں سے وفاداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کی شہادت میں ایک ایسے قائد کی داستان پھر تازہ ہو گئی جس نے اپنی پوری عمر جرات مندانہ موقف کی قیمت پر گزاری اور اپنے لہو سے اپنے اصولوں کی گواہی دی۔

ابتدائی جڑیں اور شعور کی تشکیل

شہید صالح محمد سلیمان العاروری سنہ 1966ء میں مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں رام اللہ کے بلدہ عارورہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی بنیادی اور ثانوی تعلیم اپنے ہی گاؤں کے سکولوں میں حاصل کی، اس کے بعد جامعہ الخلیل میں داخلہ لیا جہاں سے اسلامی قانون میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔

اسی ماحول میں ان کا دینی اور قومی شعور کم عمری ہی میں پروان چڑھا اور ان کی فکری شخصیت فلسطینی قضیہ سے ایک قومی آزادی کی جدوجہد کے طور پر جڑ گئی۔

طلبہ سرگرمیوں سے عملی مزاحمت تک

العاروری نے اپنی ابتدائی عمر ہی سے مساجد اور سکولوں کے ذریعے اسلامی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا، بعد ازاں سنہ 1985ء سے جامعہ الخلیل میں اسلامی طلبہ تحریک کے نمایاں قائدین میں شمار ہونے لگے۔

جب سنہ 1987ء کے اواخر میں اسلامی تحریک مزاحمت ’ حماس‘ کا آغاز ہوا تو وہ اس میں شامل ہونے والے اولین افراد میں تھے اور فلسطینی مزاحمت کی تاریخ کے ایک نازک مرحلے پر مغربی کنارے میں اس کی تنظیمی اور عوامی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

جیل، قیادت سازی کا میدان

شہید العاروری نے قابض اسرائیلی جیلوں میں مجموعی طور پر 18 برس قید وبند میں گزارے۔ انہیں سنہ 1990ء سے 1992ء تک بغیر کسی مقدمے کے انتظامی حراست میں رکھا گیا، پھر سنہ 1992ء میں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور مغربی کنارے میں القسام بریگیڈز کے ابتدائی سیلز تشکیل دینے کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سنہ 2007ء میں رہائی کے بعد صرف تین ماہ گزرے تھے کہ انہیں ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا، یہاں تک کہ سنہ 2010ء میں قابض اسرائیل کی اعلیٰ عدالت نے ان کی رہائی اور فلسطین سے جلاوطنی کا فیصلہ سنایا۔

قید کے ان طویل برسوں میں جیل ان کے لیے مزاحمتی منصوبے کی ازسرِنو تشکیل اور تنظیمی تجربے کو نکھارنے کی ایک وسیع درسگاہ بن گئی۔

جبری جلاوطنی اور قومی جدوجہد کا تسلسل

سنہ 2010ء میں شہید العاروری کو شام جلاوطن کر دیا گیا جہاں وہ فروری 2012ء تک مقیم رہے، بعد ازاں اندرونی حالات کے باعث وہاں سے روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد وہ مصر، قطر اور ترکیہ میں مقیم رہے اور آخرکار لبنان میں سکونت اختیار کی۔

جغرافیائی جلاوطنی کے باوجود انہوں نے اپنی سیاسی اور تنظیمی موجودگی کو برقرار رکھا اور فلسطینی مزاحمت کے منصوبے میں مرکزی نوعیت کے اہم امور کی قیادت جاری رکھی۔

قومی وزن رکھنے والا قائدانہ مقام

العاروری کو سنہ 2010ء میں حماس کے سیاسی بیورو کا رکن منتخب کیا گیا، جبکہ 5 اکتوبر 2017ء کو وہ نائب سربراہ سیاسی بیورو منتخب ہوئے، یہ ذمہ داری سنہ 2021ء میں دوبارہ ان کے سپرد کی گئی۔

اسی طرح انہوں نے مغربی کنارے میں تحریک کی قیادت کی ذمہ داری بھی سنبھالی، جس کے تنظیمی اور میدانی بوجھ نے انہیں تحریک ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر مزاحمتی راستے کے اہم ترین فیصلہ سازوں میں شامل کر دیا۔

القدس، اسیران اور مزاحمت: ناقابلِ سودے بازی اصول

شہید العاروری القدس اور مسجد اقصیٰ کو اس جدوجہد کا مرکز اور دائمی قبلہ قرار دیتے تھے اور اس بات پر زور دیتے تھے کہ جو قومی منصوبہ القدس کو نظرانداز کرے وہ اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔

اسیران کے معاملے میں ان کا مؤقف واضح تھا کہ اسیر قومی وقار کی علامت ہے اور اس کی رہائی ایک اخلاقی اور قومی فریضہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

مزاحمت کو وہ ایک جائز اور اسٹریٹجک انتخاب سمجھتے تھے، کوئی عارضی حربہ نہیں بلکہ ایک جامع آزادی کا منصوبہ، جس کا مقصد قابض اسرائیل کی مرضی کو توڑنا اور فلسطینی حقوق کو مکمل طور پر حاصل کرنا ہے۔

قومی وحدت ایک اسٹریٹجک انتخاب

العاروری نے قومی وحدت کو قابض اسرائیل کے مقابلے اور قومی منصوبے کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن شرط قرار دیا۔ انہوں نے سنہ 2017ء میں قاہرہ میں ہونے والے مصالحتی مذاکرات میں حماس کے وفد کی قیادت کی اور مصالحتی معاہدے پر دستخط کیے۔

ان کی گفتگو ہمیشہ جامع قومی زبان پر مبنی رہی، جس میں تقسیم اور اخراج کی نفی کی گئی اور مصالحت کو ایک وجودی ضرورت کے طور پر پیش کیا گیا جو حقیقی شراکت داری اور مزاحمت کے انتخاب کے احترام پر قائم ہو۔

انہوں نے سکیورٹی تعاون اور مزاحمت کاروں کی گرفتاریوں پر سخت تنقید کی اور واضح کیا کہ فلسطینی خون کا تحفظ اور صفوں کا اتحاد ہی کسی بھی جامع قومی منصوبے کی بنیاد ہو سکتا ہے۔

میدانوں کی وحدت اور مزاحمت کا علاقائی پہلو

شہید العاروری نے میدانوں کی وحدت کے اصول کو ایک جامع اسٹریٹجک حکمت عملی کے طور پر اپنایا، جس کا مقصد فلسطینی اور علاقائی محاذوں کو ایک ہی معرکے میں جوڑنا تھا۔

انہوں نے حماس، حزب اللہ اور جماعت اسلامی کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا اور سیاسی و میدانی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

فلسطینی اندرونی محاذ پر انہوں نے مغربی کنارے میں مزاحمتی سیلز کو متحرک کرنے کی نگرانی کی اور غزہ میں جوائنٹ کمانڈ ائنڈ کنٹرول کے تجربے کو ایک قومی ماڈل کے طور پر سراہا جو مزاحمتی فیصلے کو متحد کرتا ہے۔

طوفان الاقصیٰ کے دوران مؤثر سیاسی کردار

معرکہ طوفان الاقصیٰ کے دوران شہید العاروری کا کردار نمایاں رہا۔ انہوں نے عارضی انسانی جنگ بندی کے دوران اسیران کے تبادلے سے متعلق اعلانیہ مذاکرات میں حصہ لیا اور معرکے کی سیاسی بیانیہ سازی میں مرکزی حیثیت اختیار کی۔

اپنے میڈیا بیانات میں انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی اضافی اسیران کے تبادلے کو جارحیت کے خاتمے اور مکمل سیز فائر سے مشروط ہونا چاہیے، جو ان کے اصولی اور ثابت قدم مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

شہادت

شہید العاروری کو قابض اسرائیل کے قائدین کی جانب سے بارہا قتل کی دھمکیاں دی گئیں، انہیں امریکی ٹارگٹ لسٹ میں شامل کیا گیا، بلدہ عارورہ میں ان کا گھر مسمار کیا گیا اور ان کے اہل خانہ کے کئی افراد کو گرفتار کیا گیا، اس سب کے باوجود وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور اعلان کرتے رہے کہ شہادت ان کی سب سے بڑی تمنا ہے۔

دو جنوری بہ روز منگل 2024ء کو شہید قائد شیخ صالح العاروری بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک سفاک صہیونی حملے میں اپنے ساتھی القسام بریگیڈز کے قائدین سمیر فندی اور عزام الاقرع اور تحریک کے دیگر کارکنان کے ہمراہ شہادت پا گئے۔ یوں انہوں نے جہادی موقف اور قربانی سے بھرپور ایک عظیم جدوجہد کا اختتام کیا اور ان کا لہو مزاحمت اور قومی وحدت کے راستے کو ہمیشہ روشن کرتا رہے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan