غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلام تحریک مزاحمت حماس نے امریکہ کی جانب سے فلسطینی حمایت اور انسانی امداد کے میدان میں سرگرم متعدد مؤثر اداروں اور شخصیات پر امریکی وزارتِ خزانہ کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
تحریک حماس نے آج جمعرات کے روز جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلے سراسر ناانصافی اور ظلم پر مبنی ہیں جو مجرم صہیونی ریاست کی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں کیے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ قابض اسرائیل فلسطینی عوام اور ان کے قومی قضیہ کے خلاف اپنی کھلی اور ہمہ گیر جنگ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔
حماس نے اس امر پر زور دیا کہ امریکی وزارتِ خزانہ کے یہ فیصلے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کی اس تکلیف اور اذیت کو مزید گہرا کریں گے جو قابض اسرائیل نے دانستہ طور پر مسلط کر رکھی ہے۔
بیان میں امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قابض اسرائیل کے حق میں کیے گئے ان جانبدارانہ اقدامات سے فوری طور پر دستبردار ہو اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جن امور پر اتفاق ہوا تھا ان پر عملدرآمد کروایا جائے جن میں گذرگاہوں کی بحالی امدادی سامان اور رہائشی ضروریات کی فراہمی اور قومی کمیٹی کو فوری طور پر اپنے فرائض انجام دینے کے قابل بنانا شامل ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں سرگرم چھ فلاحی تنظیموں اور بیرونِ ملک کام کرنے والے ایک گروپ پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا اور ان پر تحریک حماس کے مفاد میں کام کرنے کا الزام لگایا تھا۔
