Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلسطینیوں کی جبری آبادکاری، خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ: صومالیہ

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)  صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو جبراً صومالیہ میں آباد کرنے کی کوششوں پر سخت خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل خلیج عدن اور بحیرہ احمر تک رسائی کے لیے بھی خطرناک عزائم رکھتا ہے اور اس کی حالیہ کارروائیاں صومالیہ اور پورے خطے کے استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

الجزیرہ چینل کے ذریعے نشر ہونے والے بیان میں صدر حسن شیخ محمود نے قابض اسرائیل کی جانب سے نام نہاد صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اعتراف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ گذشتہ تقریباً تین دہائیوں سے علیحدگی کا دعوے دار ہے مگر دنیا کے کسی بھی ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ صومالیہ کی متواتر حکومتوں نے ہمیشہ پرامن ذرائع سے ملک کے اتحاد کی بحالی کی کوشش کی ہے اور قابض اسرائیل کی جانب سے اچانک کیا گیا یہ اعتراف نہ صرف غیر متوقع بلکہ انتہائی عجیب بھی ہے۔

اسی تناظر میں صومالی صدر نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ قابض اسرائیل کے اس اقدام کا صومالیہ اور ترکیہ کے درمیان بالخصوص توانائی کے شعبے میں کسی تعاون سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قابض اسرائیل کے صومالیہ کے ساتھ ماضی میں کوئی تعلقات نہیں رہے اور نہ ہی وہ خطے کے معاملات میں کبھی کوئی مؤثر فریق رہا ہے۔

صدر حسن شیخ محمود نے نشاندہی کی کہ نام نہاد صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی مخالفت صرف صومالیہ تک محدود نہیں بلکہ عرب لیگ ،ایگاد تنظیم اور افریقی یونین کے ساتھ ساتھ دنیا کے پچاس سے زائد ممالک بھی اس موقف کی حمایت کرتے ہیں۔

اندرونی صورتحال پر اس اعتراف کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے صومالی صدر نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران صومالیہ میں نسبتا استحکام اور سیاسی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ ان کے مطابق قابض اسرائیل کا یہ اقدام اس استحکام کو نقصان پہنچانے اور ملک میں جاری بحالی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔

صدر حسن شیخ محمود نے زور دیا کہ عالمی برادری بالخصوص عرب اور افریقی ممالک پر لازم ہے کہ وہ اس خطرناک صورت حال کی سنگینی کو سمجھیں جسے انہوں نے قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ اور فلسطین میں اپنی ناکامیوں اور بحران کو خطے میں منتقل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے اثرات افریقی ہارن کے امن اور استحکام کے لیے نہایت سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے گذشتہ جمعہ کے روز شمالی صومالیہ میں واقع علیحدگی پسند خطے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور وہ دنیا کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے یہ قدم اٹھایا حالانکہ یہ خطہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے عملی خود مختاری کا دعوے دار ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ نام نہاد صومالی لینڈ سنہ 1991ء سے ایک عملی سیاسی وجود کے طور پر قائم ہے اور سابق برطانوی صومالیہ کی حدود میں صومالیہ کے شمال مغربی حصے پر کنٹرول رکھتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan