Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غیر قانونی بستیوں اور اسرائیلی فوج کے لیے ایپسٹین کی مالی مدد بے نقاب

نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی دستاویزات نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ بدنامِ زمانہ امریکی ارب پتی جیفری ایپسٹین نے قابض اسرائیلی فوج کو بھاری مالی عطیات فراہم کیے اور فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی بستیوں کی تعمیر و مالی معاونت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

ایپسٹین کے بارے میں مسلسل نئی معلومات منظرِ عام پر آنے کا سلسلہ جاری ہے، جسے سنہ 2019ء میں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کا نیٹ ورک چلانے کے الزامات کے تحت مقدمے کے دوران اپنی جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پایا گیا تھا۔

سنہ 2005ء میں ایپسٹین کی جانب سے جمع کرائی گئی ٹیکس دستاویزات کے مطابق اس نے قابض اسرائیلی فوج اور فلسطینی زمینوں پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے آباد کاروں کو براہِ راست مالی امداد فراہم کی۔ دستاویزات بتاتی ہیں کہ ایپسٹین نے تین مارچ سنہ 2005ء کو “فرینڈز آف آئی ڈی ایف” (قابض اسرائیلی فوج کے دوستوں کی انجمن) کو 25 ہزار ڈالر کا عطیہ دیا۔

مزید برآں اس نے “جیوش نیشنل فنڈ” کو 15 ہزار ڈالر فراہم کیے، یہ وہ ادارہ ہے جو مغربی کنارے میں آباد کاروں کی مالی معاونت کرتا ہے، اس کے علاوہ 5 ہزار ڈالر “نیشنل کونسل آف جیوش ویمن” نامی تنظیم کو دیے۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے اور دہائیوں سے اسے روکنے کا مطالبہ کر رہی ہے، کیونکہ یہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔

اسی تناظر میں 20 مئی سنہ 2012ء کو ایپسٹین کی طرف سے ایک نامعلوم شخص کو بھیجی گئی ای میلز بھی سامنے آئی ہیں جن میں اس نے متعصبانہ دعویٰ کیا کہ “تاریخی طور پر فلسطین کا کوئی وجود نہیں”۔ اس نے اپنی ای میل میں لکھا کہ اگرچہ ساتویں صدی کے بعد عربی یہاں کی اکثریتی زبان بن گئی تھی، لیکن فلسطین کبھی مکمل عرب ملک نہیں رہا اور نہ ہی یہاں کبھی کوئی آزاد عرب یا فلسطینی ریاست قائم ہوئی۔ اس طرح کے بیانات اس کی جانب سے فلسطینی نصب العین کی نفی اور غاصب صہیونی ریاست کی پشت پناہی کو ظاہر کرتے ہیں۔

نئی دستاویزات میں ایپسٹین کے جنازے سے متعلق بھی عجیب تفصیلات موجود ہیں۔ امریکی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کی 12 اگست سنہ 2019ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک گواہ نے بتایا کہ جنازے کے دوران صحافیوں کی توجہ بھٹکانے کے لیے ایک ایسی گاڑی کے پیچھے لگایا گیا جس میں خالی بکسے تھے، جبکہ ایپسٹین کی میت کو بعد میں دوسری گاڑی کے ذریعے خفیہ طور پر لے جایا گیا۔

گذشتہ 31 جنوری کو امریکی نائب وزیرِ انصاف ٹوڈ بلانچ نے ایپسٹین سے متعلق تحقیقات کی 30 لاکھ سے زائد نئی فائلیں پبلک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ 9 فروری سے کانگریس کے اراکین ان فائلوں کا مکمل اور غیر سینسر شدہ جائزہ لے سکیں گے، تاہم یہ رسائی صرف محکمہ انصاف کے دفاتر کے اندر کمپیوٹرز تک محدود ہوگی اور اراکین کو الیکٹرانک کاپیاں بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

جیفری ایپسٹین ایک ایسا امریکی تاجر تھا جس پر 14 سال تک کی کم عمر بچیوں کے جنسی استحصال کا نیٹ ورک چلانے کا الزام تھا، جس کے تانے بانے عالمی سطح کی بڑی شخصیات سے ملتے ہیں۔ اس کیس کی فائلوں میں برطانوی شہزادہ اینڈریو، سابق امریکی صدور بل کلنٹن ، موجودہ ڈونلڈ ٹرمپ، سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک، گلوکار مائیکل جیکسن اور نیو میکسیکو کے سابق گورنر بل رچرڈسن جیسی معروف شخصیات کے نام شامل ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan