غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ شہر میں واقع الشفاء ہسپتال نے غزہ کی پٹی میں نہایت سنگین صحت کے بگاڑ سے خبردار کیا ہے جہاں غیر تشخیص شدہ امراض بڑے پیمانے پر پھیل رہے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق صحت کا نظام مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے سے قاصر ہے جبکہ تشخیصی اور علاج کی سہولیات کی شدید قلت صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔
الشفاء ہسپتال میں شعبہ استقبالیہ اور ایمرجنسی کے سربراہ ڈاکٹر معتز حرارہ نے بتایا کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران شعبہ روزانہ پانچ سو سے زائد مریضوں کا استقبال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق روزانہ تقریباً دو سو مریض شدید سانس کی بیماریوں میں مبتلا آ رہے ہیں جن میں تیز بخار سانس میں شدید دشواری انتہائی کمزوری مسلسل اسہال الٹی کھانسی اور سینے میں درد شامل ہیں۔
ڈاکٹر حرارہ نے وضاحت کی کہ مریضوں میں علامات کی شدت کا فرق ان کی قوت مدافعت پر منحصر ہے۔ بعض مریض دو دن میں صحت یاب ہو جاتے ہیں جبکہ دیگر کو ہسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے خصوصاً وہ افراد جو پہلے سے دائمی امراض میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بعض مریضوں کو اس وقت انتہائی نگہداشت میں منتقل کیا جاتا ہے جب دستیاب علاج خون میں آکسیجن کی سطح بہتر کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارت صحت پھیلنے والے بعض وائرسز کی نوعیت متعین کرنے سے قاصر ہے کیونکہ لیبارٹری اور تشخیصی سہولیات موجود نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ درج کی گئی یہ بیماریاں نہ کورونا وائرس ہیں اور نہ موسمی انفلوئنزا بلکہ ان کی علامات معمول سے کہیں زیادہ شدید ہیں تاہم وائرس کی اصل نوعیت کا تعین ممکن نہیں۔
ڈاکٹر حرارہ کے مطابق ہسپتال میں لیپٹوسپائروسس کے مرض میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو ایک بیکٹیریا سے پھیلنے والا انفیکشن ہے اور چوہوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ یہ مرض پہلے ہر تین برس میں ایک بار سامنے آتا تھا جبکہ اب ہر دو ماہ میں دو سے تین کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اچانک شدید فالج کے کیسز میں بھی خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً بیس کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ پہلے یہ چند کیسز سال بھر میں رپورٹ ہوتے تھے۔
حقیقی خطرات
اس سے قبل سینہ اور اندرونی امراض کے ماہر ڈاکٹر احمد الربعی نے غزہ میں سانس کے مریضوں کی زندگیوں کو لاحق حقیقی خطرات سے خبردار کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ادویات اور طبی آلات کی شدید کمی کے ساتھ ساتھ جبری نقل مکانی کے کٹھن حالات اور پورے غزہ میں آلودہ فضا صورتحال کو تباہ کن بنا رہی ہے۔
مجمع الشفاء طبی میں شعبہ امراضِ سینہ اور اینڈوسکوپی کے سربراہ نے کہا کہ غزہ کے شہریوں کی صحت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سانس کی نالی کے انفیکشن شدید فلو اور نمونیا کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر الربعی نے گذشتہ اتوار روزنامہ فلسطین کو بتایا کہ غزہ کی اکثریتی آبادی کا خیموں یا غیر موزوں رہائش گاہوں میں رہنا شہریوں کی قوت مدافعت کو براہ راست متاثر کر رہا ہے اور سینے کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیموں اور جزوی طور پر تباہ شدہ گھروں میں رہائش نے قوت مدافعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خیمے سے باہر نکلتے وقت ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کا سامنا اور نقل مکانی کے مقامات پر شدید بھیڑ ایسے عوامل ہیں جنہوں نے بیماریوں کے پھیلاؤ کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
ڈاکٹر الربعی نے مزید وضاحت کی کہ خیموں کے اندر لکڑی یا پلاسٹک جلا کر کھانا پکانے سے اٹھنے والا دھواں پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور سوزش میں اضافہ کرتا ہے۔ ان کے بقول اس دھوئیں سے دمے کے دورے اور دائمی بیماریوں کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
اموات کے کیسز
ڈاکٹر الربعی نے تصدیق کی کہ ادویات کی کمی اور علاج میں تاخیر کے باعث بعض مریضوں کی حالت بگڑ گئی۔ متعدد مریضوں کو انتہائی نگہداشت میں داخل کیا گیا جبکہ سانس کی بیماریوں کی پیچیدگیوں کے باعث بعض مریض جاں بحق بھی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی مریضوں کی حالت بگڑ کر انتہائی نگہداشت تک جا پہنچی اور بعض کمزور قوت مدافعت یا بروقت علاج نہ ملنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اگر فوری طور پر ضروری ادویات اور آلات داخل نہ کیے گئے تو مزید مریض بھی اسی انجام سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
متاثرہ طبقات کے حوالے سے ڈاکٹر الربعی نے بتایا کہ بچے بزرگ اور دائمی امراض میں مبتلا افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان میں علامات زیادہ شدید ہوتی ہیں اور صحت یابی مشکل ہو جاتی ہے جس کے لیے فوری اور مسلسل علاج ناگزیر ہے تاکہ جان لیوا پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ دمے اور دائمی سینے کے مریض دوہرے خطرے سے دوچار ہیں جہاں شدید دوروں اور انتہائی نگہداشت میں داخلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دمے کے کیسز میں واضح اضافہ دیکھا ہے خواہ وہ نئے مریض ہوں یا پہلے سے متاثرہ افراد۔ بنیادی انہیلرز اور ادویات کی کمی اور مسلسل دھوئیں کی زد میں رہنا ان کی حالت کو انتہائی خطرناک بنا رہا ہے۔
ڈاکٹر الربعی نے خبردار کیا کہ انہیلرز سانس کی جانچ کے آلات اور پھیپھڑوں کے معائنے کے آلات کی کمی سینے کے مریضوں کے لیے حقیقی جان لیوا خطرہ بن چکی ہے خصوصاً ان کٹھن ماحولیاتی حالات میں۔
آلودہ ماحول
دوسری جانب غزہ کی پٹی میں شہری تنظیموں کے نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا نے کہا کہ موجودہ موسمی حالات نے وائرسز اور بیماریوں کے پھیلاؤ میں براہ راست کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی اور صحت کی تباہی سے خبردار کیا۔
امجد الشوا کے مطابق غزہ شدید پانی بحران کا شکار ہے جہاں پینے کے صاف پانی کی کمی ہے جبکہ تقریباً نو لاکھ میٹرک ٹن کچرا جمع ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کے نظام کی بڑے پیمانے پر تباہی اور صفائی کے سامان کی درآمد پر پابندیوں نے وباؤں کے پھیلاؤ کے لیے زرخیز ماحول پیدا کر دیا ہے۔
غزہ کے باشندے اب بھی شدید سردی اور بارشوں کے اثرات جھیل رہے ہیں جبکہ قابض اسرائیل خیموں اور رہائشی سامان کی آمد روکنے پر بضد ہے۔ اس صورتحال نے جبری طور پر بے گھر افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے خاص طور پر بچوں بزرگوں اور دائمی مریضوں کے لیے جو ایسی خیمہ بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی ناپید ہیں۔
اس سے قبل طبی تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ جبری نقل مکانی کے شکار افراد میں وبائی امراض خصوصاً ہیضہ اور پولیو کے پھیلنے کا سنگین خطرہ موجود ہے کیونکہ قابض اسرائیل غزہ میں ادویات اور طبی سامان کی آمد پر سخت پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے۔
