Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کے ہزاروں خاندان بجلی کے بحران اور غربت میں گرفتار

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں بجلی کی بندش محض روشنی کا خاتمہ نہیں بلکہ یہ ایسے خوابوں کی موت ہے جنہیں فلسطینی برسوں سے سینے میں بسائے ہوئے تھے۔ یہ اندھیرا روزگار چھین رہا ہے، خود داری توڑ رہا ہے اور قابض اسرائیل کی سفاکیت کے باعث مزید خاندانوں کو غربت اور محتاجی کی قطار میں دھکیل رہا ہے۔

جنگ سے قبل ابو احمد ایک ماہر گرافک ڈیزائنر تھا جو بطور فری لانسر کام کرتا تھا۔ وہ روزانہ بیدار ہوتے ہی اپنے کام کے کمرے میں چلا جاتا، جہاں بجلی، تیز رفتار انٹرنیٹ اور متبادل بجلی کے انتظامات موجود تھے تاکہ بجلی کی بندش کے باوجود اس کا کام متاثر نہ ہو، جیسا کہ غزہ میں معمول تھا۔

اگرچہ نسل کشی کی اس جنگ سے پہلے بھی غزہ کی زندگی آسان نہ تھی۔ پندرہ برس سے زائد عرصے پر محیط محاصرے نے ہر شعبہ مفلوج کر رکھا تھا۔ بجلی مخصوص اوقات کے مطابق آتی جاتی تھی اور بعض اوقات سولہ گھنٹے تک بند رہتی، تاہم عوام متبادل ذرائع اور عادت کے باعث اپنی زندگی کسی نہ کسی طرح چلا لیتے تھے۔

غربت کی فہرست میں اضافہ

آج ابو احمد محض اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور نہیں بلکہ وہ اپنے مستقل گاہک بھی کھو چکا ہے۔ اب وہ ایک بھرے ہوئے کیفے میں بیٹھ کر کام کرنے کی کوشش کرتا ہے، جہاں ذرا سی بادلوں کی اوٹ ,سورج کی روشنی چھین لے تو بجلی اور انٹرنیٹ دونوں غائب ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب نئے گاہکوں تک رسائی اور موجودہ کام کی تکمیل میں شدید دشواری ہے۔

ابو احمد کہتا ہے کہ میں ایک حقیقی ڈراؤنے خواب میں جی رہا ہوں۔ کبھی میں پرسکون ماحول میں اپنے گاہکوں سے بات کرتا تھا، وقت کی پابندی میری پہچان تھی۔ آج حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ جگہ تنگ اور شور سے بھری ہے، بجلی اور انٹرنیٹ بوسیدہ شمسی نظام کے باعث بار بار بند ہو جاتے ہیں، متبادل نظام کے لیے درکار سامان کراسنگ سے آنے نہیں دیا جاتا۔ اس سب کے نتیجے میں میری پیشہ ورانہ ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے کیونکہ میں متعدد بار وعدے کے مطابق کام وقت پر مکمل نہ کر سکا۔

اس کے مطابق اس صورتحال نے اسے اپنے خاندان کی کفالت سے بھی عاجز کر دیا ہے، حالانکہ وہ اپنے ہم عمر افراد میں بہتر آمدنی والا شمار ہوتا تھا، اپنے بہن بھائیوں اور دوستوں کی مدد کرنے کے قابل تھا۔

کام کا کوئی موقع نہیں

ابو احمد کی کہانی غزہ کے بے شمار محنت کشوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ابو علی جو جنگ سے قبل مرغی فروش تھا اور اچھی آمدنی رکھتا تھا، غزہ پر جارحیت کے پہلے دن سے بے روزگار ہے اور آج تک گھر میں محصور ہے۔

ابو علی بتاتا ہے کہ میں نے کبھی اپنی دکان بند نہیں کی تھی، اپنی محنت سے گھر بنایا، کسی کا محتاج نہ رہا۔ جنگ شروع ہوتے ہی بجلی اور حتیٰ کہ مرغیاں بھی ناپید ہو گئیں۔ میں بے روزگار ہو گیا اور مہنگائی اور قحط کے دوران اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر بیٹھا۔ آج میں بے بس ہوں اور گھر کا خرچ بھی پورا نہیں کر پا رہا۔

اس نے منجمد گوشت اور مرغی فروخت کرنے کی کوشش کی، مگر بجلی کی عدم موجودگی اور متبادل جنریٹروں سے پیدا ہونے والی بجلی کی ہوش ربا قیمتوں نے اس کی راہ مسدود کر دی۔ وہ صرف یہی چاہتا ہے کہ بجلی بحال ہو یا قابض اسرائیل سستے داموں ڈیزل جنریٹروں کے لیے ایندھن کی اجازت دے تاکہ وہ دوبارہ روزگار سے جڑ سکے۔

خواب دم توڑ رہے ہیں

عبدالحمید کی حالت بھی مختلف نہیں۔ وہ ایک نجی انٹرنیٹ نیٹ ورک کا مالک تھا جس کی بجلی اور سروس جنگ سے قبل کبھی معطل نہیں ہوئی تھی۔ سرکاری بجلی کے ساتھ اس کے پاس مضبوط شمسی نظام موجود تھا۔

طویل جنگ، مسلسل انحصار اور نئے آلات کی عدم دستیابی کے باعث اس کا شمسی نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔ مجبوراً اس نے مہنگا جنریٹر خریدا اور پندرہ گنا مہنگے داموں ایندھن لینا پڑا، جس کے نتیجے میں آمدنی صفر کے برابر رہ گئی۔

عبدالحمید نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ ہم تقریباً صرف اس لیے کام کر رہے ہیں تاکہ ایندھن خرید سکیں اور بار بار ہونے والی خرابیوں کو درست کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی انٹرنیٹ فراہم کرنے والی فلسطینی کمپنی نے اجارہ داری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتیں بڑھا دیں اور ناقابل عمل شرائط عائد کر دیں۔

وہ کہتا ہے کہ میرا خواب، جسے میں نے قدم بہ قدم حقیقت بنایا تھا، آج سراب بنتا جا رہا ہے۔ میں اپنی پہلی کامیابی کو بچانے کی جدوجہد کر رہا ہوں تاکہ میرا چھوٹا سا منصوبہ مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔

ہمہ گیر تباہی

غزہ الیکٹرک ڈسٹری بیوشن کمپنی کے مطابق جنگ کے دوران بجلی کے شعبے میں ہونے والی تباہی ایک عظیم انسانی المیہ ہے جس نے تئیس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بجلی کے شعبے کو دیگر اہم شعبوں کے ساتھ سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔

کمپنی کے مطابق بجلی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی تباہی نے غزہ میں زندگی کے تمام پہلو مفلوج کر دیے ہیں۔ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ بجلی سے محروم ہے، قابض اسرائیل نے پانچ ہزار اسی نیٹ ورک، دو ہزار دو سو پینتیس ٹرانسفارمر، دو لاکھ پینتیس ہزار میٹر، آٹھ گودام اور ورکشاپس، نو سروس مراکز اور باون گاڑیاں تباہ کر دیں۔

مرمت کی کوششیں

دسمبر سنہ 2025ء کے اواخر میں غزہ کی بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی نے اعلان کیا کہ اس کے عملے نے بجلی کی بحالی کے لیے وسیع فنی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ان اقدامات میں مرکزی نیٹ ورکس کی بحالی، کیبلز اور میٹرز کی جانچ اور اسمارٹ میٹر نظام کی تیاری شامل ہے۔

ابتدائی مرحلے میں دیر البلح، النصیرات اور الزوایدہ کے علاقوں پر توجہ دی جا رہی ہے، جہاں فنی ٹیمیں گھروں کا معائنہ کر کے دو برس کی جارحیت کے بعد کنکشنز کی سلامتی کو یقینی بنا رہی ہیں۔

کمپنی نے واضح کیا کہ یہ اقدامات بجلی کے بنیادی ڈھانچے میں حقیقی سرمایہ کاری ہیں اور عوام کو مستقبل میں بہتر سروس فراہم کریں گے۔ ساتھ ہی اس نے مقامی اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ مرمتی سامان اور آلات کی غزہ میں بلا رکاوٹ ترسیل ممکن ہو سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan