غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی قومی کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے اعلان کیا ہے کہ گزرگاہ چلانے سے متعلق تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان ضروری انتظامات مکمل ہونے کے بعد پیر کے روز سے رفح برّی گزرگاہ دونوں طرف سے آمد و رفت کے لیے کھول دی جائے گی۔
علی شعث نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ آپریٹنگ طریقہ کار سے متعلق تمام تر مفاہمتوں اور تنظیمی اقدامات کی تکمیل کے بعد پیر 2 فروری سنہ 2026ء سے رفح گزرگاہ کو باقاعدہ کھولنے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اتوار یکم فروری کا دن گزرگاہ پر کام کے طریقہ کار کے لیے ایک آزمائشی دن کے طور پر مخصوص ہوگا تاکہ اگلے روز سے مکمل طور پر کام کا آغاز کیا جا سکے۔
اسی تناظر میں قابض اسرائیلی حکام نے بھی آج جمعہ کو تقریباً 20 ماہ کی طویل بندش کے بعد اتوار کے روز غزہ اور مصر کے درمیان رفح گزرگاہ کھولنے کا اعلان کیا ہے تاہم اس کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ آنے اور جانے والے تمام مسافر قابض اسرائیل کے سکیورٹی معائنے سے گذریں گے۔
اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے افراد کا سفر مصری فریق کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور قابض اسرائیل کی پیشگی سکیورٹی منظوری کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
چینل نے مزید بتایا کہ غزہ واپسی صرف ان لوگوں تک محدود رہے گی جو جنگ کے دوران پٹی سے باہر گئے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ گزرگاہ تمام طبقات کے لیے مکمل طور پر نہیں کھولی جا رہی۔
قابض اسرائیلی افواج نے 7 مئی سنہ 2024ء کو جنوبی غزہ کے شہر رفح پر قبضے کے ساتھ ہی رفح گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔
غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق گزرگاہ کی اس ظالمانہ بندش کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد مریض تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہو گئے جبکہ اس وقت بھی پٹی میں 22 ہزار سے زائد زخمی اور بیمار ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر بیرونِ ملک علاج کے لیے سفر کی ضرورت ہے۔
اس گزرگاہ کی بندش نے بیرونِ ملک سکالر شپ حاصل کرنے والے ہزاروں طلبہ کا تعلیمی مستقبل بھی تباہ کر دیا ہے اور ان کی زندگی کے قیمتی سال ضائع کر دیے ہیں۔
