Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کے لیے جزوی ریلیف؟ اسرائیل کی رفح کراسنگ پر مشروط آمادگی

رفح – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو کے دفتر نے پیر کے روز غزہ کی واحد بین الاقوامی گذرگاہ رفح کو کھولنے کی مشروط منظوری کا اعلان کیا، جس کے تحت جنوبی غزہ میں واقع اس سرحدی گذرگاہ کو صرف افراد کی محدود آمد و رفت کے لیے مکمل اسرائیلی نگرانی کے نظام کے تحت کھولنے کی اجازت دی گئی، تاہم اس کے کھلنے کی کوئی واضح تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

نیتن یاھو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ رفح کراسنگ کا کھلنا تمام زندہ اور مردہ یرغمالیوں کی واپسی سے مشروط ہے اور حماس پر لازم ہے کہ وہ ان کی واپسی کے لیے بھرپور کوشش کرے۔ اسی بیان کے مطابق رفح کراسنگ اس وقت کھولا جائے گا جب سارجنٹ میجر رانی گوئیلی کی لاش کی تلاش کا عمل مکمل کر کے اسے امریکہ کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت واپس کیا جائے گا، جس کا عملی مطلب یہ ہے کہ کراسنگ کی بحالی کو جان بوجھ کر مؤخر کیا جا رہا ہے اور اسے ایک قابض فوجی کی لاش کی تلاش سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

قابض اسرائیلی چینل 12 نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ امکان ہے رفح کراسنگ موجودہ ہفتے کے اختتام تک کھول دی جائے گی۔

نیتن یاھو کے دفتر نے گذشتہ روز اتوار کو اس سے قبل بتایا تھا کہ گوئیلی کی لاش کی تلاش اس وقت شمالی غزہ کے ایک قبرستان میں جاری ہے اور اس مقصد کے لیے قابض اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے پاس موجود تمام انٹیلی جنس معلومات استعمال کی جا رہی ہیں۔

قابض اسرائیلی فوج کے عسکری ترجمان نے اعلان کیا کہ فوج کی جنوبی کمان نے شمالی غزہ میں نام نہاد یلو لائن کے علاقے میں ایک مرکوز فوجی کارروائی شروع کر دی ہے جس کا مقصد گوئیلی کی لاش کو برآمد کرنا ہے۔

اسی دوران قابض اسرائیلی وزارتی سلامتی کابینہ نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد اور رفح کراسنگ کھولنے کے معاملے پر اجلاس منعقد کیا۔

یہ اجلاس بنجمن نیتن یاھو اور امریکی صدر کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات کے بعد ہوا جس میں معبر رفح کی بحالی، قابض اسرائیلی اسیر کی لاش کی واپسی اور اسلامی تحریک مزاحمت حماس کو غیر مسلح کرنے جیسے معاملات زیر بحث آئے۔

قابض اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ وٹکوف اور کشنر نے مقبوضہ بیت المقدس میں ہونے والی بات چیت کے دوران نیتن یاھو پر زور دیا کہ وہ غزہ اور مصر کو ملانے والے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولے۔

دوسری جانب القسام بریگیڈز کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ بریگیڈز نے زندہ قیدیوں اور مردہ قیدیوں کی لاشوں کے معاملے میں مکمل شفافیت کا مظاہرہ کیا اور جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ القسام بریگیڈز نے اپنے پاس موجود تمام زندہ اسیران اور لاشیں بلا تاخیر حوالے کر دیں، اس کے باوجود کہ قابض اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں اور فلسطینی عوام کے خلاف قتل عام اور سفاکیت کا ارتکاب جاری رکھا۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیس نے رپورٹ کیا کہ غزہ میں امن کونسل کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادی نوف پیر کے روز قابض اسرائیل پہنچنے والے ہیں تاکہ معبر رفح کی بحالی اور غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت پر بات چیت کی جا سکے۔

گذشتہ جمعرات کو غزہ پٹی کی قومی انتظامی کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے بیان دیا تھا کہ معبر رفح آئندہ ہفتے دونوں سمتوں میں کھول دیا جائے گا، تاہم اس مقصد کے لیے اختیار کی جانے والی عملی حکمت عملی کی وضاحت نہیں کی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے مئی سنہ 2024ء میں غزہ پٹی پر اپنی جارحیت کے دوران رفح کراسنگ پر قبضہ کر لیا تھا، یہ جارحیت دو برس تک جاری رہی۔ اس دوران قابض فوج نے رفح شہر پر زمینی حملے کے دوران رفح کراسنگ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں یہ گزرگاہ بند کر دی گئی اور اس کی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

چار جنوری کو قابض اسرائیلی اخبار ہارٹز نے رپورٹ کیا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی یورپی یونین کی ایک فورس کی مدد سے رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے کی انتظامیہ سنبھالے گی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan