انقرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے سرگرم پلیٹ فارم انقرہ برائے یکجہتی فلسطین نے غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے فلسطینی صحافیوں کی یاد میں ایک نمایاں گرافیٹی دیوار تیار کی۔ یہ اقدام فلسطینی صحافیوں کے خلاف کی جانے والی منظم نسل کشی کو اجاگر کرنے کے لیے اٹھایا گیا۔
ترکیہ کی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے اس پلیٹ فارم کے اراکین نے انقرہ کے وسط میں واقع اولوس اسکوائر میں اجتماع منعقد کیا جہاں بعض شرکا نے فلسطینی شہید صحافیوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے گرافیٹی دیوار بنائی۔ یہ سرگرمی ترکیہ میں ہر سال 10 جنوری کو منائے جانے والے یوم صحافیان ے موقع پر منعقد کی گئی۔
خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے انقرہ برائے یکجہتی فلسطین کے ترجمان منصور اوزدمیر نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم غزہ کی پٹی میں فلسطینی صحافیوں کے خلاف قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
منصور اوزدمیر نے ان فلسطینی صحافیوں سے تعزیت کا اظہار کیا جو غزہ میں قابض اسرائیل کی سفاکانہ کارروائیوں کی کوریج کے دوران شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انہی صحافیوں کی بدولت غزہ میں جاری نسل کشی دنیا کے سامنے آشکار ہوئی اور قابض اسرائیل اسے چھپانے میں ناکام رہا۔
انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ غزہ میں نسل کشی کے ارتکاب کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں صحافتی فرائض انجام دیتے ہوئے 237 فلسطینی صحافیوں کو شہید کیا گیا۔
غزہ میں سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق گذشتہ دسمبر کے آغاز تک 7 اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والی قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ کے بعد سے اب تک 257 فلسطینی صحافی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ دو برس تک جاری رہی اور اس دوران صحافت کو منظم طور پر نشانہ بنایا گیا۔
