غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) انسانیت سوز مظالم کے ایک انتہائی لرزہ خیز منظر میں غزہ کی پٹی سے سامنے آنے والے ایک ہولناک واقعے نے شہری آبادی بالخصوص بچوں کے خلاف جاری صہیونی سفاکیت کے پردے چاک کر دیے ہیں۔ ایک دو سالہ معصوم بچے کو عسکری تفتیش کے دوران دباؤ بڑھانے کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا جس نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور بچوں کے خلاف ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس واقعے کی تفصیلات نوجوان اسامہ ابو نصار سے جڑی ہیں جو اپنے خاندان کی کفالت کے واحد سہارے یعنی اپنے گھوڑے کے مر جانے کے بعد سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا اور گذشتہ چند دنوں سے اپنے رویے میں تبدیلی کے باعث طبی علاج کے مراحل سے گذر رہا تھا۔
دو دن قبل ابو نصار اپنی ضرورت کا کچھ سامان خریدنے کے لیے اپنے ننھے بچے کے ہمراہ گھر سے نکلا لیکن غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے مغازی کی مشرقی سرحد کے قریب اپنے گھر کی قربت کی وجہ سے وہ اچانک قابض اسرائیل کی فوج کی شدید فائرنگ کی زد میں آگیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ایک کواڈ کاپٹر ڈرون طیارے نے اسے مجبور کیا کہ وہ اپنے بچے کو زمین پر چھوڑ دے اور خود فوجی چوکی کی طرف بڑھے جہاں اسے کپڑے اتارنے پر مجبور کیا گیا۔
شہادتوں کے مطابق قابض فوج نے چوکی پر والد سے تفتیش کے دوران بچے کو اپنی تحویل میں لے لیا اور والد سے جبری اعترافات کروانے کے لیے اس کے سامنے معصوم بچے کو اذیتیں دینا شروع کر دیں۔
بچے کی والدہ کے ویڈیو بیان اور گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق صہیونی درندہ صفت فوجیوں نے دو سالہ “کریم” کو مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جن میں بچے کے نازک جسم پر جلتی ہوئی سگریٹیں بجھانا اور اس کی ٹانگ میں لوہے کی کیل ٹھونکنا شامل ہے۔ اس وحشیانہ تشدد کی تصدیق میڈیکل رپورٹ میں بھی کر دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں بچے کی ماں کی گواہی نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے کہ کس طرح فوجیوں نے سگریٹ کے داغوں اور لوہے کی کیل کے ذریعے ننھے کریم کو تڑپایا۔
قابض فوج نے تقریبا 10 گھنٹے تک محبوس رکھنے کے بعد معصوم بچے کو رہا کر کے مغازی بازار میں ریڈ کراس کے حوالے کیا جبکہ بچے کا والد اب بھی صہیونی عقوبت خانوں میں قید ہے۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر صدمے اور شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے جہاں انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے غزہ کی پٹی پر جاری نسل کشی کی جنگ میں شہریوں اور بالخصوص بچوں کے خلاف ہونے والے سنگین جنگی جرائم کے تسلسل کی ایک کڑی قرار دیا ہے۔