Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کے اسیران شدید طبی حالت میں رہا، قیدخانے کی ہولناک حقیقت بے نقاب

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے دیر البلح میں واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال میں غزہ سے تعلق رکھنے والے ان آٹھ فلسطینی اسیران کو داخل کیاگیا جنہیں قابض اسرائیلی عقوبت خانوں سے انتہائی تشویشناک طبی حالت میں رہا کیا گیا ہے۔

میدانی اور طبی ذرائع نے بتایا کہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے عملے نے اسیران کو سدے تیمان چھاؤنی سے رہائی کے بعد منتقل کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ ذرائع نے وضاحت کی کہ ان آٹھوں اسیران کو ہسپتال پہنچتے ہی فوری طور پر علاج کے شعبوں میں داخل کر دیا گیا تاکہ ان کے ضروری طبی معائنے کیے جا سکیں۔ رہا ہونے والے ان مظلوموں کے جسموں پر شدید تھکن، غذائی قلت اور جسمانی و نفسیاتی تشدد کے گہرے نشانات واضح طور پر نمایاں تھے۔

ہسپتال پہنچنے والے اسیران کی فہرست میں تل الزعتر سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ محمد اسعد محمد شتات، شیخ زاید سے 35 سالہ محمد وائل دیب المملوک اور خان یونس سے 32 سالہ خالد محمد حلمی سویلم۔ رہا ہونے والوں میں خان یونس ہی کے 45 سالہ وائل سعید وائل النجار، 31 سالہ احمد محمد احمد ابو حیمد، 46 سالہ خالد حسن حسین ابو حمید اور 49 سالہ محمد اسعد شاکر النجار بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیت لاہیا سے تعلق رکھنے والے 41 سالہ شادی عادل علی حمید بھی آزادی کی فضاؤں میں سانس لینے والوں میں شامل ہیں۔

گذشتہ اسیران کی شہادتوں نے اس لرزہ خیز حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ سدے تیمان میں حراست کے حالات تمام انسانی معیارات سے گر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں منظم جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں شدید مار پیٹ، شکاری کتوں کا استعمال اور جسم کے حساس حصوں پر حملے شامل تھے۔ اسیران نے بتایا کہ انہیں روزانہ 17 گھنٹوں تک انتہائی تکلیف دہ پوزیشن میں بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور اس دوران انہیں سونے، بات کرنے یا سر اٹھانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی جبکہ ان کی نقل و حرکت پر سخت ترین پابندیاں عائد تھیں۔

مظلوم اسیران نے انکشاف کیا کہ صفائی کے فقدان اور مہینے میں صرف ایک بار کپڑے بدلنے کی اجازت ملنے کے باعث وہاں خارش جیسی چھوت کی جلدی بیماریاں عام ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ پانی اور صفائی کے سامان کی بھی شدید قلت ہے۔ انہوں نے منظم فاقہ کشی کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں انتہائی قلیل مقدار میں ناقص معیار کی خوراک دی جاتی تھی جس کی وجہ سے قید کے دوران ان کا وزن دسیوں کلوگرام تک کم ہو گیا۔

رہائی پانے والے اسیران کا یہ گروپ سنہ 2026ء کے فروری کے مہینے میں ہونے والی محدود اور وقفے وقفے سے ہونے والی رہائیوں کا حصہ ہے۔ رہا ہونے والوں کو عموماً کرم ابو سالم گزرگاہ کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے اور پھر انہیں ریڈ کراس کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو انہیں غزہ کی پٹی کے اندر ہسپتالوں تک پہنچاتی ہے۔

بین الاقوامی اور مقامی انسانی حقوق کی رپورٹوں نے سدے تیمان چھاؤنی کو غاصب اسرائیل کا ’گوانتانامو‘ قرار دیا ہے کیونکہ وہاں سے مسلسل منظم تشدد، طبی غفلت اور جسمانی زیادتیوں کی شہادتیں سامنے آ رہی ہیں۔ 19 فروری کو صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی نے ایک رپورٹ بعنوان ”ہم جہنم سے لوٹے ہیں“ جاری کی جس میں 59 فلسطینی صحافیوں کی شہادتیں قلمبند کی گئی ہیں۔ ان صحافیوں نے بتایا کہ انہیں اس عقوبت خانے کے اندر بدترین تشدد، جنسی زیادتیوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اسیران اور رہا پانے والوں کے امور کی کمیٹی نے اس چھاؤنی کو ”زندوں کا قبرستان“ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ غاصب اسرائیل ’غیر قانونی لڑاکا‘ (Unlawful Combatant) کے قانون کو جبری طور پر لاپتہ کیے گئے قیدیوں کو چھپانے اور ریڈ کراس کی باقاعدہ رسائی روکنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ڈاکٹروں نے انکشاف کیا ہے کہ طویل عرصے تک لوہے کی سخت ہتھکڑیاں لگی رہنے کی وجہ سے کئی قیدیوں کے اعضاء کاٹنے پڑے جبکہ دسیوں اسیران طبی غفلت یا تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے ان عقوبت خانوں میں جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔

اسی تناظر میں یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر اور میزان سینٹر فار ہیومن رائٹس سمیت انسانی حقوق کے دیگر اداروں نے عالمی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جاری مظالم اور نسل کشی کی تحقیقات میں سدے تیمان کے معاملے کو بھی خصوصی طور پر شامل کرے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan