انقرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے ” نیشنل کمیٹی فار مینجمنٹ آف غزہ” پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے فوری طور پر پہنچے اور اس حوالے سے تمام اختیارات اسے منتقل کرنے کے لیے مکمل آمادگی کا اعلان کیا ہے۔
میڈیا آفس نے ایک پریس ریلیز میں واضح کیا کہ تمام سرکاری ادارے، محکمے اور ان کے ملازمین مفادِ عامہ کی خدمت کے لیے کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون اور کام شروع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
بیان میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے درمیان فلسطینی سرزمین کی وحدت اور سیاسی جغرافیے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ مرحلے میں قومی وحدت اور داخلی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اولین ترجیح ہے۔
واضح رہے کہ کمیٹی برائے انتظامِ غزہ علی شعت کی سربراہی میں ایک آزاد ٹیکنوکریٹک باڈی پر مشتمل ہے، جسے عبوری مرحلے کے دوران سول امور، داخلی سکیورٹی کے انتظام اور تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
اگرچہ گذشتہ جنوری کے وسط میں قاہرہ سے باضابطہ طور پر اس کے کام کے آغاز کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن قابض اسرائیل کی رکاوٹوں اور زمینی پابندیوں کی وجہ سے کمیٹی کو اپنی ذمہ داریاں شروع کرنے کے لیے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
قابض اسرائیل اب بھی کمیٹی کے اراکین کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے سے روک رہا ہے، باوجود اس کے کہ رفح گزرگاہ کو جزوی اور تجرباتی طور پر دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ کمیٹی کے اراکین اس وقت قاہرہ میں مقیم ہیں اور قابض اسرائیل کے براہِ راست انکار کی وجہ سے زمینی کام شروع کرنے کی تاریخ طے کرنے سے قاصر ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ اقدام امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو روکنے کے لیے ایک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
