Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ کی تعمیرِ نو پر فلسطینی سفیر کا دوٹوک مؤقف

قاہرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مصر میں فلسطین کے سفیر دیاب اللوح نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطینی عوام مزید کسی نئی جنگ کی سکت نہیں رکھتے اور اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع کانفرنس قاہرہ میں منعقد کی جائے۔

دیاب اللوح نے کہا کہ مصر غزہ کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے پاس ایک واضح منصوبہ موجود ہے جس کے ابتدائی مرحلے میں ابتدائی بحالی کا منصوبہ شامل ہے تاکہ تمام اہم شعبوں میں عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے القدس العربی کو دیے گئے بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی فلسطینی جغرافیہ اور فلسطینی سیاسی نظام کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور فلسطینی عوام ان تمام منصوبوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں جن کا مقصد غزہ کے باسیوں کو بے دخل کرنا قضیہ فلسطین کو ختم کرنا یا وطن کے دونوں حصوں کو تقسیم کرنا ہے۔

فلسطینی سفیر نے واضح کیا کہ غزہ کی تعمیر نو اور غزہ سمیت تمام فلسطینی علاقوں میں استحکام کی کوئی بھی ضمانت اسی وقت ممکن ہے جب دوبارہ جنگ کی طرف واپسی نہ ہو۔

دیاب اللوح نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے شراکت دار سیز فائر کو برقرار رکھنے اور جنگ میں واپسی روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام نئی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ان کی خواہش صرف امن سکیورٹی آزادی اور وقار کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے دائرے میں زندگی گزارنا ہے۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ تنازعے کا حل سراسر سیاسی ہے جو اسی صورت ممکن ہے جب فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست کے فریم ورک میں معمول کی سیاسی انسانی اور سماجی زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔

فلسطینی سفیر نے غزہ کی پٹی کے تمام کراسنگ پوائنٹس کھولنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ ضروری امداد داخل کی جا سکے اور رفح کراسنگ کو بغیر کسی پیچیدگی کے کھولنے کا مطالبہ کیا تاکہ غزہ کے شہریوں کی آمد و رفت پر کوئی پابندی نہ ہو۔

دیاب اللوح نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ڈونر کانفرنس کے انعقاد کی کوئی حتمی تاریخ تو نہیں بتائی تاہم انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ ساحلی پٹی کو دو برس سے زائد عرصے میں ہونے والی وسیع تباہی کے بعد فوری اور منظم تعمیر نو کی اشد ضرورت ہے۔ اس دوران قابض اسرائیل کی افواج نے تنازعے کے آغاز سے اب تک کی شدید ترین تباہ کن جنگی کارروائیاں انجام دیں۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق غزہ کے تمام شعبوں میں تباہی کی شرح لگ بھگ 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے کیونکہ قابض اسرائیل نے گھروں اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کے بیشتر نیٹ ورکس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کے لیے 70 ارب ڈالر سے زائد رقم درکار ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan