غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے جمعرات کے روز غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے فضائی حملوں، توپ خانے سے گولہ باری اور جنگی ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ سیز فائر کے اعلان کے باوجود قابض دشمن کی جانب سے ان خلاف ورزیوں کا تسلسل برقرار ہے جبکہ وزارت صحت کے اعداد و شمار اس سفاکانہ جارحیت کے آغاز سے اب تک متاثرین کی تعداد میں ہونے والے مسلسل اضافے کی لرزہ خیز داستان سنا رہے ہیں۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض دشمن کے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں پر دو وحشیانہ فضائی حملے کیے، جس کے ساتھ ہی غزہ شہر کے مشرقی حصوں کو بھی توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اسرائیلی توپ خانے نے وسطی غزہ میں واقع بریدج پناہ گزین کیمپ کے شمال مشرقی علاقوں پر بھی گولہ باری کی، جبکہ قابض اسرائیل کے ایک ہیلی کاپٹر نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں پر اندھادھند فائرنگ کی۔ بعد ازاں اسرائیلی توپ خانے کی جانب سے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں اور بریدج کیمپ کے گرد و نواح میں دوبارہ گولہ باری کی گئی، جس کے نتیجے میں سویلین آبادی والے علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
شہداء اور زخمیوں کی تفصیلات
وزارت صحت فلسطین نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قابض اسرائیل کی جاری سفاکیت کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور دو زخمی ہو کر ہسپتال پہنچے ہیں۔ وزارت نے اس افسوسناک صورتحال کی جانب اشارہ کیا کہ متعدد شہداء اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑے ہیں، کیونکہ مسلسل بمباری اور میدانی حالات کی سنگینی کے باعث ایمبولینس اور دفاع مدنی کا عملہ ان تک پہنچنے سے قاصر ہے۔
وزارت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 11 اکتوبر کو سیز فائر کے اعلان کے بعد سے اب تک قابض دشمن کی گولیوں اور بمباری سے شہید ہونے والوں کی تعداد تقریباً 650 ہو چکی ہے، جبکہ 1732 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران ملبے تلے دبے 756 شہداء کے جسد خاکی نکالے گئے ہیں۔ وزارت صحت نے مزید انکشاف کیا کہ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں مجموعی شہداء کی تعداد 72 ہزار 135 تک جا پہنچی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 71 ہزار 830 ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار قابض اسرائیل کی اس خونی فوجی مہم کے نتیجے میں ہونے والی وسیع پیمانے کی تباہی اور انسانی جانوں کے ضیاع کی ہولناکی کو واضح کرتے ہیں۔
