Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں 1 لاکھ 27 ہزار خیمے شدید سردی کے خطرے میں: اسماعیل ثوابتہ

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں تقریباً ایک لاکھ 27 ہزار ایسے خیموں میں رہنے والے فلسطینی ایک نہایت شدید اور اس موسم سرما کے سب سے خطرناک سرد موسمی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں جو سخت ترین سردی کے ساتھ آیا ہے۔ ان حالات میں حرارت فراہم کرنے کے وسائل اور کمبلوں کی قلت 70 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے جس نے انسانی المیے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

غزہ میں حکومتی میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے تصدیق کی ہے کہ مجموعی طور پر ایک لاکھ 35 ہزار خیموں میں سے ایک لاکھ 27 ہزار خیمے رہائش کے قابل نہیں رہے۔ یہ خیمے اس وقت ایک قطبی نوعیت کے شدید سرد موسمی دباؤ کی زد میں ہیں جس کی خصوصیت جان کو جما دینے والی سردی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بے گھر فلسطینیوں کو کمبل، بستر اور بنیادی رہائشی سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے، خاص طور پر وہ خاندان جو بوسیدہ خیموں میں اور دور دراز الگ تھلگ علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال سخت موسمی حالات میں ان کی تکالیف کو کئی گنا بڑھا رہی ہے۔

اس سے قبل سرکاری میڈیا نے اعلان کیا تھا کہ جبری بے دخلی کے کیمپوں میں شدید سردی کے باعث اموات کی تعداد بڑھ کر 21 تک جا پہنچی ہے جن میں 18 معصوم بچے شامل ہیں۔ یہ اموات نسل کشی کے آغاز کے بعد سامنے آئی ہیں۔ بیان میں آئندہ آنے والے موسمی دباؤ کے نتیجے میں مزید تباہ کن اثرات سے خبردار کیا گیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب مسلسل محاصرہ جاری ہے، مکانات اور بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا ہے اور پندرہ لاکھ سے زائد فلسطینی ایسے کیمپوں میں دھکیل دیے گئے ہیں جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔

حکومتی میڈیا دفتر نے ان اموات کی مکمل اور براہ راست ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہلاکتیں سست روی سے قتل، بھوک مسلط کرنے اور جبری بے گھری کی پالیسیوں کا تسلسل ہیں۔ دفتر نے عالمی برادری سے فوری اور سنجیدہ اقدام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا سکیں اور حرارت و امدادی سامان غزہ میں داخل کیا جائے۔

بارشوں کے رکنے کے بعد غزہ کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت میں شدید کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، خاص طور پر رات کے اوقات میں، جس سے غیر موزوں خیموں میں مقیم بے گھر افراد کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ خیموں کے اندر جم جانے والی سردی محسوس کرتے ہیں، بالخصوص وہ خیمے جن میں بارش کا پانی داخل ہو جاتا ہے جس سے کپڑے اور کمبل بھیگ جاتے ہیں۔

قابض اسرائیل نے سنہ 2023ء سات اکتوبر سے غزہ پر بجلی کی فراہمی مکمل طور پر منقطع کر رکھی ہے، جس کے باعث خاندان حرارت کے کسی بھی ذریعے سے محروم ہیں۔ دوسری جانب خیموں یا تباہ شدہ گھروں کے اندر آگ جلانا خطرات اور لکڑی کی بھاری قیمتوں کے باعث ممکن نہیں رہا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan