خان یونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی غزہ کے شہر خانیونس میں واقع الامل ہسپتال کے اندر نامعلوم سمت سے ہونے والی شدید فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون ملازمہ گولی لگنے سے زخمی ہو گئی۔ فائرنگ ہسپتال کے احاطے اور اس کی تنصیبات کو نشانہ بناتی رہی جس کے باعث اندر مختلف مقامات پر مادی نقصان بھی ہوا۔
فلسطینی ریڈ کراس نے آج اتوار کے روز بتایا کہ ملازمہ فاتن ابو علی دوپہر تقریباً دو بجے اس وقت زخمی ہوئیں جب وہ خانیونس گورنری میں واقع تنظیم کے زیر انتظام ہسپتال کے اندر موجود تھیں۔
تنظیم کے مطابق زخمی ہونے والی ملازمہ کی حالت معمولی اور مستحکم ہے۔ انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی جس کے بعد وہ بعد ازاں ہسپتال سے روانہ ہو گئیں۔
ریڈ کراس نے مزید وضاحت کی کہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک ایمبولینس گاڑی بھی نشانہ بنی جس کے سامنے کے شیشے اور باڈی میں متعدد گولیاں لگیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایمبولینس ہسپتال کے صحن میں کھڑی تھی۔
بیان میں بتایا گیا کہ گولیوں کی زد استقبالیہ اور ایمرجنسی شعبے کے اطراف آکسیجن اسٹیشن اور انتظامی عمارتوں تک پھیلی جس سے مریضوں اور طبی عملے کی جانوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہو گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب قابض اسرائیل کی جاری جارحیت کے باعث غزہ کے طبی مراکز پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں اور ہسپتالوں کو دانستہ طور پر غیر محفوظ بنایا جا رہا ہے جس سے نہتے مریض اور طبی عملہ مسلسل خطرات میں گھرا ہوا ہے۔
