Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں گردے کے مریض خطرناک حالات کا شکار، طبی سہولیات بند

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں گردوں کے فیل ہونے کے مرض میں مبتلا مریضوں کی انسانی تکالیف خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہیں۔ گذرگاہوں کی مسلسل بندش اور بیرونِ غزہ علاج کے لیے سفر پر پابندی نے طبی انتظار کی فہرستوں کو ایک خاموش قاتل بنا دیا ہے جو بغیر کسی شور کے سیکڑوں مریضوں کی زندگیاں نگلنے کے درپے ہے۔

غزہ کے ڈائلیسز شعبوں کے اندر بالخصوص دیر البلح میں واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال میں صحت کے سنگین بحران کی واضح تصویر دکھائی دیتی ہے۔ ادویات اور بنیادی طبی سامان کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ ڈائلیسز مشینوں کی کمی نے علاج کے تسلسل کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس کے باعث مریض جان لیوا پیچیدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق یہ صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

یہ شعبے اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ روزانہ مریضوں کی بڑھتی تعداد نے علاج کے سیشنز کے اوقات کو درہم برہم کر دیا ہے جس کے نتیجے میں حالیہ عرصے کے دوران بے قاعدہ علاج کے باعث اموات بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔

یہ المیہ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ مریضوں کی روزمرہ زندگی میں مسلسل درد نیند سے محرومی اور اذیت کی صورت میں جھلکتا ہے۔ ادویات کی عدم دستیابی اور درد کم کرنے کے مؤثر ذرائع نہ ہونے کے باعث مریض خاموشی سے کرب جھیلنے پر مجبور ہیں۔

مریضوں کا کہنا ہے کہ ان کا واحد مطالبہ گذرگاہوں کو کھولنا اور ضروری ادویات کی غزہ میں فراہمی ہے۔ موجودہ حالات میں ہسپتال بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں جس کے باعث غزہ کے اندر علاج کرانا خود ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کے ہسپتالوں میں تقریباً 30 ہزار مریض اور زخمی موجود ہیں جو بیرونِ غزہ علاج کے لیے اجازت کے منتظر ہیں۔ مقامی طبی نظام کی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے اور سنگین نوعیت کے کیسز سے نمٹنا اس کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

ماہر ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ کئی اہم ادویات نایاب ہو چکی ہیں جن میں اریتھروپویٹین ہارمون بھی شامل ہے۔ اس دوا کی عدم دستیابی کے باعث ڈائلیسز کے مریضوں میں اموات کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے کیونکہ خون کی سطح کو قابو میں رکھنا ممکن نہیں رہا۔

اس تشویشناک اور غیر انسانی صورت حال میں مقامی اور عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کی اپیلیں جاری ہیں تاکہ بالخصوص رفح گذرگاہ کو کھولا جا سکے اور مریضوں کو بچایا جا سکے قبل اس کے کہ طویل انتظار ان کے لیے یقینی موت میں بدل جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan